تبصرہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
تذکیر القرآن الانفال ۸ اے نبی! تمہارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ مومنین جنہوں نے تمہارا ساتھ دیا ہے۔ اے نبی مومنین کو لڑائی پر ابھارو۔ اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سو ہوں گے تو منکروں پر غالب آئیں گے ، اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں گے ، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے ۶۵-۶۶ اہل ایمان کی کم تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہل ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہل ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میں ایک شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے لئے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی کا بلب جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کر دیتا ہے کہ اس کی ہر چیز واضح طور پر دکھائی دینے لگے۔ اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتا ہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔
ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل چیز حیات دنیا نہیں بلکہ حیات آخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنا دیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اس کے لئے جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے لئے مطلوب چیز بن جاتا ہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھا سکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتا ہے اور مومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔ مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے ، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے ، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتا ہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتا ہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتا ہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ غیر مومن تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور مومن وسعت ظرف کے ساتھ۔
ہزار کے مقابلہ میں سو اور دو ہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے لئے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوں تب بھی وہ لڑنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues