Al-Risala · October 1981 · page 23

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

کسی نبی کے لئے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں اچھی طرح خوں ریزی نہ کرلے۔ تم دنیا کے اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے۔ اور اللہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے۔ اور اگر اللہ کا ایک لکھا ہوا پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو طریقہ تم نے اختیار کیا اس کے باعث تم کو سخت عذاب پہنچ جاتا۔ پس جو مال تم نے لیا ہے اس کو کھاؤ، تمھارے لئے حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے کافروں کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے ستر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے ۔ اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیا گیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جا سکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا: اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے ، ان کو قتل کر کے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جائے۔ تا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔

بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالی نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگر چہ بظاہر رحمت و شفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفر و شرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالی نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابو سفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کر دیا اور ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میں آگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کر دیا جاتا تو کفر و شرک کی مزاحمت بدر کے میدان ہی میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہو گئے۔ یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے لئے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کر دیتے مگر اللہ نے آخری رسول اور آپ کے اصحاب کے لئے پہلے سے مقدر کر دیا تھا کہ وہ لازما غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیر میں اس کوتاہی کے با وجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آ سکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جا چکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page