Al-Risala · October 1981 · page 43

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۴۳

الانفال ۸ تذکیر القرآن اے نبی تمبارے ہاتھ میں جو قید ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر وہ تمہیں دیدے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر یہ تم سے بدعہدی کریں گے تو اس سے پہلے انھوں نے خدا سے بدعہدی کی تو خدا نے تم کو ان پر قابو دے دیا اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ ۷۱ - ۷۰ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے لئے ایک جنگی غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفت حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک ہار اور موقع مل گیا کہ وہ اسلام کی دعوت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بے جاروش پر دوبارہ غور کر سکیں۔ اس مہلت نے ان کے لئے اپنی اصلاح کا نیا دروازہ کھول دیا۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ ان قیدیوں کے دل میں شکست کی بنا پر انتقام کی آگ بھڑکے۔ فدیہ دینے کی وجہ سے ان کو جو ذلت اور نقصان ہوا ہے اس کا بدلہ لینے کے لئے وہ بے چین ہو جائیں۔ ایسی صورت میں وہ پھر اسی غلطی کو دہرائیں گے جس کے نتیجہ میں وہ خدا کی پکڑ کے مستحق بن گئے تھے۔ وہ اپنی قوتوں کو اسلام کی مخالفت میں صرف کریں گے جس کا انجام دنیا میں ہلاکت ہے اور آخرت میں عذاب۔

دوسری صورت یہ تھی کہ وہ بدر کے میدان میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعہ پر غور کریں کہ مسلمانوں کو کم تر اسباب کے باوجود اتنی کھلی ہوئی فتح کیوں نصیب ہوئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا مسلمانوں کے دین کے ساتھ ہے نہ کہ قریش کے دین کے ساتھ۔ یہ دوسرا ذہن اگر پیدا ہو جائے تو وہ ان کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدلیں اور جس دین کو پہلے اختیار نہ کر سکے اس کو اب سے اختیار کر لیں۔ اور اس طرح دنیا و آخرت میں خدا کے انعام کے مستحق بنیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قریش کے لوگوں میں ایک تعداد ایسی نکلی جن کے دل میں مذکورہ سوال جاگ اٹھا اور جلد یا بدیر وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب نے زمانہ قیدی ہی میں اسلام قبول کر لیا۔ کچھ دوسرے لوگ بعد کو اسلام کے حلقہ میں آگئے۔ یہ لوگ اگرچہ گروہی تعصب کی نظریں ذلیل ہوئے مگر انھوں نے خدا کی نظر میں عزت حاصل کرلی۔ دنیا کا نقصان اٹھا کر وہ آخرت کے فائدے کے مالک بن گئے ۔ قیدیوں کو چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کو احسان سمجھ کر اس کا اعتراف نہیں کریں گے بلکہ پہلے کی طرح دوبارہ سازش اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کر کے اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیونکہ خالص حق کے لئے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page