Al-Risala · October 1981 · page 25

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن الانفال ۸ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا، اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہ لوگ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی، توان سے تمہارا رفاقت کا کوئی تعلق نہیں، جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں۔ اور وہ تم سے دین کے معاملہ میں مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب ہے، الا یہ کہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور جو لوگ منکر ہیں، وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑا فساد ہو گا۔ ۷۲-۷۴ عام طور پر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا، وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر ایسے لوگوں کو دے دیں جن سے تعلق کی بنیاد صرف دین تھی۔ جو لوگ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آئے، وہ بھی اللہ کے لئے اور آخرت طلبی کے لئے آئے، اور جنہوں نے ان اجنبی لوگوں کو اپنے مال اور اپنی جائداد میں شریک کیا، وہ بھی صرف اس لئے تاکہ ان کا خدا ان سے خوش ہو اور آخرت میں انھیں جنتوں میں داخل کرے۔

یہ ایک ایسا سماج تھا جس میں اہم چیز خاندان اور نسب نہیں بلکہ ایمان واسلام تھا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، مگر دنیوی فائدے کے لئے نہیں، بلکہ آخرت کے فائدے کے لئے۔ وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے، مگر پانے والے سے کسی بدلہ کی امید میں نہیں، بلکہ اللہ سے انعام کی امید میں۔ وہی معاشرہ حقیقۃً اسلامی معاشرہ ہے جہاں تعلقات خاندانی رشتوں اور گروہی عصبیتوں پر قائم نہ ہوں، بلکہ حق کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے حامی و ناصر اس بنیاد پر ہوں کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ دنیوی مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔

ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے حق کے معاملہ میں مدد طلب کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا بالکل لازم ہے۔ اگر مسلمانوں میں باہمی مدد کی یہ روح باقی نہ رہے تو یہ ہوگا کہ شریر لوگ کمزور مسلمانوں پر دلیر ہو جائیں گے اور ان کی زندگی اور ان کے ایمان کا محفوظ رہنا سخت مشکل ہو جائے گا۔ حق کے مخالفین اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے انتہائی متعصب ہوتے ہیں، پھر حق کے ماننے والے اپنے ساتھیوں کی مدد میں کیوں نہ سرگرم ہوں ۔ اس میں استثنا صرف اس وقت ہے جب کہ معاملہ بین الاقوامی ہو اور مسلمانوں کی مدد کرنا بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔

"ہجرت" جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتا ہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page