تبصرہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے بخشش ہے اور بہترین رزق ہے۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تم میں سے ہیں۔ اور خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں اللہ کے نوشتہ میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ٧٥۔ ۷۴ خدا پر ایمان لانا خدا کے لئے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسے لوگ اکثر ان لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتے ہیں جو خدا کے سوا کسی اور چیز کی خاطر زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ اجنبیت کبھی اتنی بڑھتی ہے کہ ہجرت کی نوبت آجاتی ہے۔ ماحول کی مخالفت کے نتیجہ میں پوری زندگی جدوجہد اور جاں فشانی کی زندگی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک سچے مومن ہیں۔ اس کے بعد سچا ایمان ان لوگوں کا ہے جو اسلام کی خاطر برباد ہو جانے والے اس قافلہ کے پشت پناہ بنیں وہ ان کو جگہ دیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ جن کی زندگیاں کہیں لٹی ہیں وہ اپنا اثاثہ ان لوگوں کے حوالے کر دیں جن کی زندگیاں اسلام کی راہ میں لٹ گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی مسلم بننے کے لئے آدمی کو دو میں سے کم از کم ایک چیز کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی یا تو اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ اس طرح وابستہ کر کے کہ اگر اس کو اپنی بنی بنائی دنیا اجاڑ دینی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے، آرام کی زندگی کو بے آرامی کی زندگی بنا دینا پڑے تو اس کو بھی گوارا کر لے۔ پھر یہ کہ اسلام کی خاطر جب کچھ لوگ اپنا اثاثہ لٹا دیں تو وہ لوگ جو ابھی لٹنے سے محفوظ ہیں وہ پہلے فریق کی مدد کے لئے اپنا بازو کھول دیں، حتیٰ کہ ضرورت ہو تو اپنی کمائی اور اپنی جائداد میں بھی ان کو شریک کر لیں۔ سچا ایمان کسی کو یا تو "مہاجر" بننے کی سطح پر ملتا ہے یا " انصار" بننے کی سطح پر۔
یہی دو قسم کے لوگ ہیں جن کے لئے خدا کے یہاں مغفرت اور رزق کریم ہے۔ آخرت میں آنے والی جنت انتہائی ستھری اور نفیس دنیا ہے۔ وہ ایک کامل دنیا ہے اور کامل دنیا میں بسائے جانے کے لائق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو خود بھی کامل ہوں۔ کوئی انسان اپنی بشری کمزوریوں کی بنا پر ایسی قابلیت کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ تاہم اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو شخص مذکورہ دونوں کسوٹی میں سے کسی ایک کسوٹی پر پورا اترے گا خدا اپنی قدرت سے اس کی کمیوں کی تلافی کرے اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔
دین کی بنیاد پر بھائی بننے والوں کی مدد اور حمایت بے حد اہم ہے تاہم وہ رحمی رشتوں کے حقوق اور ان کے درمیان وراثتوں کی تقسیم پر اثر انداز نہ ہوگی۔ اپنی خواہش کے تحت کوئی شخص اپنے اہل خاندان کے لئے جن چیزوں کو ضروری سمجھے ان کی کوئی اہمیت اللہ کے نزدیک نہیں ہے۔ تاہم اللہ نے خود اپنی کتاب میں اہل خاندان کے لئے حقوق اور دراشت کا جو قانون مقرر کر دیا ہے وہ ہر حال میں قائم رہے گا۔ اور کوئی دوسری چیز اس کی ادائیگی کے لئے عذر نہیں بن سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues