تبصرہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷
تذکیر القرآن التوبہ ۹ آیا تہا ۱۲۹ رکوعاتہا ۱۶ سورۃ التوبہ مدنیۃ اعلان براءت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔ پس تم لوگ ملک میں چار مہینے چل پھرو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ کہ اللہ منکروں کو رسوا کرنے والا ہے ۔ اعلان ہے اللہ اور رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں کے لئے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں۔ اب اگر تم لوگ توبہ کرو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوش خبری دے دو۔ مگر جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کا معاہدہ ان کی مدت تک پورا کر دو۔ بے شک اللہ پر ہیزگاروں کو پسند کرتا ہے ۴ - ۱ موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے لئے ہے۔ خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے اور جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہو جاتی ہے تو اس پر موت دار کر کے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔
یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتا ہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتا ہے ان پر وہ آخری حد تک حق کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کر دی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس لئے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کر دیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں آئی۔ ان کے اوپر خدا کی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیا گیا۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہل توحید کو مکہ کے اہل شرک پر غالب کر کے ان کے اوپر اتمام حجت کر دیا گیا۔ جب یہ سب کچھ ہو چکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کر لو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمھارا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
پھر یہ سارا معاملہ تقویٰ کے اصول پر کیا گیا نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر۔ ______مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کر دیا گیا، ان کو پیشگی انتباہ کے ذریعہ کئی مہینے تک سوچنے کا موقع دیا گیا ۔ آخر وقت تک ان کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جولوگ توبہ کر لیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہو جائیں ۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملے کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھا گیا، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues