Al-Risala · October 1981 · page 28

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن التوبہ ۹ پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور ان کو پکڑو اور ان کو گھیر و اور بیٹھو ہر جگہ ان کی گھات میں۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو انہیں چھوڑ دو۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے ۴-۵ مہلت کے چار مہینے گزرنے کے بعد یہاں جس جنگ کا حکم دیا گیا وہ کوئی عام جنگ نہ تھی یہ خدا کے قانون کے مطابق وہ عذاب تھا جو پیغمبر کے انکار کے نتیجہ میں ان پر ظاہر کیا گیا۔ انھوں نے اتمام حجت کے باوجود خدا کے پیغمبر کا انکار کرکے اپنے کو اس کا مستحق بنا لیا تھا کہ ان کے لئے تلوار یا اسلام کے سوا کوئی اور صورت باقی نہ رکھی جائے ۔ یہ خدا کا ایک خصوصی قانون ہے جس کا تعلق پیغمبر کے مخاطبین سے ہے نہ کہ عام لوگوں سے۔ تاہم اتمام حجت کے بعد بھی اس حکم کا نفاذ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ آخری مرحلہ میں پھر انہیں چار ماہ کی مہلت دی گئی۔ انتقام معاف کرنا نہیں جانتا۔ انتقامی جذبہ کے تحت جو کارروائی کی جائے اس کو صرف اس وقت تسکین ملتی ہے جب کہ وہ اپنے حریف کو ذلیل اور برباد ہوتے ہوئے دیکھ لے۔ مگر عرب کے مشرکین کے خلاف جو کارروائی کی گئی اس کا تعلق کسی قسم کے انتقام سے نہیں تھا بلکہ وہ سراسر حقیقت پسندانہ اصول پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے شدید حکم کے باوجود ان کے لئے یہ گنجائش ہر وقت باقی تھی کہ وہ دین اسلام کو اختیار کرکے اپنے کو اس سزا سے بچالیں اور اسلامی برادری میں عزت کی زندگی حاصل کر لیں۔ کسی کی توبہ کے قابل قبول ہونے کے لئے صرف دو عملی شرط کا پایا جانا کافی ہے۔ نماز اور زکوٰۃ۔

جنگ کے دوران میں دشمن کا کوئی فرد یہ کہے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو حکم ہے کہ اس کو امان دے کر اپنے ماحول میں آنے کا موقع دیں اور اسلام کے پیغام کو اس کے دل میں اتارنے کی کوشش کریں۔ پھر بھی اگر وہ قبول نہ کرے تو اپنی حفاظت میں اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادیں۔ عام حکم کے تحت اگرچہ وہ گردن زدنی ہے مگر ایسا نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے دین کی بات نہیں مانی ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔ جب کوئی شخص امان میں ہو تو امان کے دوران اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔

جنگ کے زمانہ میں دشمن کو اس قسم کی رعایت دینا انتہائی نازک ہے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ دشمن کا کوئی جاسوس اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے اندر گھس آئے اور ان کے فوجی راز معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ مگر اسلام کی نظر میں دعوت و تبلیغ کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس نازک خطرہ کے باوجود اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔

ایک شخص اگر بے خبری اور لا علمی کی بنا پر ظلم کرے تو اس کا ظلم خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اس کے ساتھ ہر ممکن رعایت کی جائے گی تا وقتیکہ اس کی لاعلمی اور بے خبری ختم ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page