Al-Risala · October 1981 · page 29

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹

ان مشرکوں لئے اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے، مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس، پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو، بے شک اللہ پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے۔ کیسے عہد رہے گا جب کہ یہ حال ہے کہ اگر وہ تمھارے اوپر قابو پائیں تو تمھارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا۔ وہ تم کو اپنے منہ کی بات سے راضی کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے دل انکار کرتے ہیں۔ اور ان میں اکثر بد عہد ہیں۔ انھوں نے اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیا، پھر انھوں نے اللہ کے راستہ سے روکا۔ بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ کسی مومن کے معاملہ میں وہ نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کا، یہی لوگ ہیں زیادتی کرنے والے۔ پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔ اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں آیات کو جاننے والوں کے لئے۔

مسلمانوں کو جب زور حاصل ہو گیا تو قریش نے ان سے معاہدہ کے کر لئے۔ تاہم وہ ان معاہدوں سے خوش نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اپنے ’’دشمن‘‘ سے یہ معاہدہ انھوں نے اپنی بربادی کی قیمت پر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت اس انتظار میں رہتے تھے کہ جہاں موقع ملے معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں یا کم از کم انھیں بد نام کریں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک فریق کی طرف سے اس قسم کی خیانت کا مظاہرہ ہو تو دوسرے فریق کے لئے کسی معاہدہ کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔

یہ قریش کا حال تھا جن کو مسلمانوں کے عروج میں اپنی قیادت چھنتی ہوئی نظر آتی تھی۔ تاہم کچھ دوسرے عرب قبائل رئیلو کانہ، بنو خزاعہ، بنو ضمرہ، جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے، انھوں نے مسلمانوں سے معاہدے کئے اور اپنے معاہدے پر قائم رہے۔ جب چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیا گیا تو ان کے معاہدہ کی میعاد پوری ہونے میں تقریباً نو مہینے باقی تھے۔ حکم ہوا کہ ان سے معاہدہ کو آخر وقت تک باقی رکھو، کیونکہ تقویٰ کا تقاضا یہی ہے۔ مگر اس مدت کے ختم ہونے کے بعد پھر کسی سے اس قسم کا معاہدہ نہیں کیا گیا اور تمام مشرکین کے سامنے صرف دو صورتیں باقی رکھی گئیں یا اسلام لائیں یا جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔

معاشرتی زندگی کی بنیاد ہمیشہ دو چیزوں پر ہوتی ہے۔ رشتہ داری یا قول و قرار۔ جن سے رحمی رشتے ہیں ان کے حقوق کا لحاظ آدمی رحمی رشتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اور جن سے قول و قرار ہو چکا ہے ان سے قول و قرار کی بنا پر۔ مگر جب آدمی کے اوپر دنیا کے مفاد اور اس کی مصلحت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ دونوں باتوں کو بھول جاتا ہے۔ وہ اپنے حقیر فائدہ کی خاطر رحمی حقوق کو بھی بھول جاتا ہے اور قول و قرار کو بھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں۔ وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں۔ دنیا میں اگر وہ چھوٹ گئے تو آخرت میں وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اپنی سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برا رہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page