Al-Risala · October 1981 · page 30

تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

تذکیر القرآن التوبه ۹ اور اگر عہد کے بعد یہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمھارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے ان سرداروں سے لڑو۔ بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں، تاکہ وہ باز آئیں۔ کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جنھوں نے اپنے عہد توڑ دئے اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ میں پہل کی۔ کیا تم ان سے ڈرو گے۔ اللہ زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ ان سے لڑو۔ اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مسلمان لوگوں کے سینہ کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دل کی جلن کو دور کر دے گا اور اللہ کو جسے نصیب کرے گا جس کو چاہے گا اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے ۱۵-۱۲ ائمہ کفر سے مراد قریش ہیں جو اپنے قائدانہ مقام کی وجہ سے عرب میں اسلام کے خلاف تحریک کی امامت کر رہے تھے۔ قریش کے اس کردار سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تحریک جب اٹھتی ہے تو اس کا پہلا مخالف کون گروہ بنتا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کو بے آمیز حق کے پیغام میں اپنی بڑائی پر زد پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ دار وہ طبقہ ہے جس کے پاس وہ ذہن ہوتا ہے کہ وہ اسلامی دعوت میں شوشے نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کرے۔ اسی کے پاس وہ وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اسلام کے داعیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے ان کو طرح طرح کی مشکلات میں ڈالے۔ اسی کے پاس وہ زور ہوتا ہے کہ وہ حق پرستوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی تدبیریں کرے۔ حتیٰ کہ اسی کو یہ مواقع حاصل ہوتے ہیں کہ اسلام کے ماننے والوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کی آگ بھڑکاسکے۔

«ان کے عہد کچھ نہیں، بہت معنی خیز فقرہ ہے۔ جو لوگ دشمنی اور ضد کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہوں ان کے وعدے اور معاہدے بالکل غیر یقینی ہوتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں اپنے حریف کے خلاف مستقل اشتعال برپا رہتا ہے۔ ان کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ وہ اگر معاہدہ بھی کر لیں تو اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کو دیر تک باقی رکھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ اپنے منفی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں اور اس طرح اہل حق کو یہ موقع دیتے ہیں کہ اپنے اوپر پہل کا الزام لئے بغیر وہ ان کے خلاف مدافعانہ کارروائی کریں اور خدا کی مدد سے ان کا خاتمہ کردیں ۔

تمام حکمت اور دانائی کا سر اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر وہ شعور جگاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے خدائی منصوبہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ خدائی منشا کو جان کر پورے اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو اس میں لگا دیتا ہے۔ وہ اس صحیح ترین راستہ پر چل پڑتا ہے جس کی آخری منزل صرف کامیابی ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کی آنکھوں کو اشک آلود کر دیتا ہے۔ مگر اللہ کے لئے بھیگی ہوئی آنکھ ہی وہ آنکھ ہے جس کے لئے یہ مقدر ہے کہ اس کو ٹھنڈک حاصل ہو، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page