Al-Risala · October 1981 · page 31

سال اکتوبر ۱۹۸۹ء

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۱

خدا کی قدہےت ایکو العلاء المعری کا ایک شعر ہے :

تَبَارَکْتَ اَنْهَارُ البِلاَدِ سَوائِجُ بِعَذْبٍ وَخُصِّتْ بِالمَلُوْحَةِ زَمْزَمْ خدایا تیری برکت، دنیا کی تمام نہریں میٹھا پانی لے کر بہہ رہی ہیں اور زمزم ہی کو خاص طور پر کھاری بنا دیا گیا۔ تمثیل کے انداز میں ایک بڑی گہری حقیقت کا اظہار ہے۔ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں تمام سطحی چیزیں مزہ دار ہیں اور تمام گہری چیزیں بے مزہ ہیں۔ اگر آپ کو اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دینا ہو تو آپ کو غصہ اور نفرت کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا جب کہ تنگ ظرفی کے لئے اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ آدمی کے اندر جو تلخی یا کڑواہٹ پیدا ہو وہ اس کو دوسرے کے اوپر انڈیل دے۔ اگر آپ کو کوئی حقیقی کام کرنا ہو تو آپ کو با اصول آدمی بننے کی سختی برداشت کرنی ہوگی ، جب کہ بے مقصد انسان بن کر جینے کے لئے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جہاں جیسا موقع ہو وہاں اسی روش کا مظاہرہ کر دیا جائے۔ اگر آپ کو کسی اعلیٰ مقصد کے لئے جینا ہے تو پوری زندگی پر طرح طرح کی روک لگانی پڑے گی، جب کہ بے مقصد زندگی گزارنے کے لئے صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو بے لگام چھوڑ دیا جائے۔

آزادی کے بعد ہندوستان کی جو پہلی منتخب پارلیمنٹ بنی اس کے ایک ممبر پروفیسر ہیرن مکرجی تھے۔ پارلیمنٹ کے اب اجلاس میں شرکت کے بعد جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لئے روانہ ہوئے تو ان پر ایک عجیب کیفیت گزری۔ تیز رفتار ٹرین کی فرسٹ کلاس بوگی ان کو لئے ہوئے دہلی کے جنوبی علاقہ سے گزر رہی تھی۔ انھوں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے دونوں طرف جھگی جھونپڑیوں اور گندے محلوں کا سلسلہ ہے جو دور تک چلا گیا ہے۔ ان کو یہ سوچ کر سخت صدمہ ہوا کہ آزادی کے انقلاب نے چند خوش قسمت لوگوں کو تو بہت کچھ دیا ہے مگر کروڑوں عوام کے لئے اس انقلاب کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ کلکتہ پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط لکھا جس میں اپنے مذکورہ تاثر کا ذکر کرتے ہوئے یہ درج تھا کہ جب میں دہلی کی ان غریب بستیوں سے گزرا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ لوگ اگر مجھ سے پوچھیں کہ تمھاری آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میرے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ پنڈت نہرو نے پروفیسر ہیرن مکرجی کے خط کا جو جواب دیا اس کا ایک فقرہ یہ تھا: تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو : You are paying the price of being sensitive بے ضمیر انسان کو کروڑوں جھونپڑیوں کا منظر کسی پریشانی میں مبتلا نہیں کرتا۔ مگر جس شخص کا ضمیر زندہ ر اس کو یہ گندی جھونپڑیاں اس طرح تڑپا دیں گی کہ اس کا نرم گدا اس کے لئے کانٹوں کا بستر بن جائے ۔ لی انسانیت ہمیشہ تلخ گھونٹ پی کر ملتی ہے جب کہ گھٹیا انسان بننے کے لئے مصلحت اور موقع پرستی کے سوا کسی اور بزرگی ضرورت نہیں۔

سال اکتوبر ۱۹۸۹ء

‹ Previous page Next page › Contents of October 1981 All issues

Printed page