اتحاد کی طاقت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰
اس نقشہ کے مطابق آتشیں شیشہ کا تمام تر عمل صرف یہ ہے کہ وہ ان شعاعوں کو جمع کرے جو لنس کے پورے دائرے میں پڑ رہی ہیں در ان کو اس طرح موڑے یا منعطف کر دے کہ وہ سب اکٹھا ہو کر ایک محدود رقبہ پر پڑنے لگیں۔ سورج کی شعاعوں کا یہ اجتماع اس محدود رقبہ میں اتنی حرارت پیدا کر دیتا ہے کہ کاغذ جلنے لگتا ہے۔
یہ مثال میں نے یہ واضح کرنے کے لئے دی ہے کہ انتشار اور اجتماع میں کیا فرق ہے۔ ایک ہی چیز اگر منتشر حالت میں ہو تو وہ بے وزن ہے۔ لیکن اگر اسے اکٹھا کر دیا جائے تو اتنی زبردست طاقت بن سکتی ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ہندوستان کے مسلمان اس وقت جس کمزوری کی حالت میں اپنے آپ کو محسوس کرتے ہیں وہ حقیقتا اتنے کمزور نہیں ہیں، یہ کمزوری ان کے انتشار کی پیدا کردہ ہے۔ اگر وہ اپنے درمیان اجتماعیت کا آتشیں شیشہ فراہم کر لیں اور انفرادی طور پر بکھری ہوئی شعاعوں کو ایک مقام پر مجتمع کر دیں تو یکایک وہ دیکھیں گے کہ جو شعاعیں الگ الگ ہونے کی صورت میں تنکا جلانے کے لئے بھی ناکافی نظر آتی تھیں، انھیں کی گرمی سے شہتیر بھڑک اٹھا ہے۔ ہماری موجودہ تعداد اور موجودہ ذرائع و وسائل جو منفرد طور پر بالکل بے قیمت نظر آتے ہیں، یہی تعداد اور یہی ذرائع کروڑوں گنا زیادہ اہمیت اختیار کر لیں گے۔ آج ہر مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس وقت ہر شخص اپنے کو ایک پوری قوم کی مانند سمجھنے لگے گا۔ اور جب ایسا ہو گا تو دوسرے بھی ہم کو اسی نظر سے دیکھیں گے جیسا کہ فی الواقع ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ بتائی جاتی ہے۔ یہ دس کروڑ افراد گویا دس کروڑ دھاگے ہیں، اگر وہ الگ ہوں تو کوئی شخص بھی انھیں باری باری توڑ سکتا ہے۔ لیکن یہی دس کروڑ دھاگے اگر مل جائیں تو وہ اتنا مضبوط رسا بن جائیں گے جنھیں ایک ہاتھ تو کیا سیکڑوں ہاتھ بھی توڑنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ جو چیز الگ سے دیکھنے میں محض ایک دھاگہ ہے وہ اتحاد کی برکت سے موٹے رسے کا مقام حاصل کر لے گی۔ قطرہ سمندر میں ہو تو وہ سمندر ہے اور باہر ہو تو وہ قطرہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ اتحاد اور اجتماعیت موجودہ حالات میں مسلمانوں کی شدید ترین ضرورت ہے۔ اس کے بغیر حالات کے سدھار کے لئے کوئی مؤثر کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اصلاحِ حال کی ہر تجویز اپنی کامیابی کے لئے یہ چاہتی ہے کہ مسلمان ایک نقطہ پر جمع ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ ذرائع و وسائل اس کے لئے مہیا ہو سکیں، زیادہ سے زیادہ حمایت کے ساتھ اس کو مؤثر بنایا جا سکے، جب وہ دنیا کے سامنے آئے تو لوگوں کو وہ زیادہ سے زیادہ وقیع اور باوزن معلوم ہو۔
کوئی بھی اجتماعیت، خواہ وہ کتنے ہی ہلکے درجہ کی ہو، بہرحال قربانی چاہتی ہے ـــــــــ وقت کی قربانی، رائے کی قربانی، حیثیت کی قربانی، ذاتی مفادات کی قربانی۔ کبھی ایسا ہو گا کہ ذاتی دائرہ میں آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے، مگر قوم کو اس کی ضرورت ہوگی، کبھی اپنی رائے کو محض اس لئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues