Al-Risala · November 1981 · page 21

اتحاد کی طاقت

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱

چھوڑنا ہوگا کہ دوسروں کو آپ اس کا قائل نہیں کر سکے اور اشتراک کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ آپ اپنی رائے سے عملی طور پر دست بردار ہو جائیں۔ کبھی آپ دیکھیں گے کہ اجتماعی ڈھانچہ میں آپ کی حیثیت گھٹ رہی ہے مگر اس کے باوجود ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کے لئے آپ اپنی حیثیت کو نظر انداز کر دیں ۔ کبھی اجتماعی تقاضے آپ کے ذاتی مفادات کو متاثر کرنے لگیں گے ۔ ضدرت پکارے گی کہ اس وقت اپنا سرمایه ذاتی خواہش میں نہیں بلکہ قوم کے کام میں لگاؤ اور آپ اس پکار کو لبیک کہیں گے ، کبھی ذاتی اور خاندانی مصالح پر قوم کی مصالح کو ترجیح دینا ہو گا ۔ و غیرہ وغیرہ ۔

ایک ایسے معاشرہ میں یہ اجتماعیت قائم نہیں ہو سکتی جہاں صدارت اور نظامت حاصل کرنے کے لئے رسہ کشی ہوتی ہو۔ جہاں قوم کے پڑھے لکھے لوگ محض بیرونی ملکوں کی سیاحت کی قیمت پر اس کے لئے راضی ہو جائیں کہ وہ ہر جا کر قوم کی غلط نمائندگی کریں۔ جس کے افراد کو محض ایک اچھا عہدہ دے کر خریدا جا سکتا ہو، جہاں ایک مسلم گروہ دوسرے مسلم گروہ کو شکست دینے کے لئے قوم کے دشمنوں سے مل جاتا ہو، جہاں یہ حال ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے خفا ہو تو پولیس کے دفتر میں اس کے خلاف مخبری کرنے پہنچ جائے۔ جہاں نظر آئے کہ کچھ لوگ ایک ملی کام کے لئے اٹھیں تو بقیہ لوگ اس کا تعاون کرنے کے بجائے یہ سوچنے لگیں کہ کہیں یہ میدان پر قابض نہ ہو جائیں اور فوراً اُسی کام کے لئے ایک اور علیحدہ تنظیم قائم کر کے لوگوں کو اپنی طرف بلانا شروع کر دیں۔ جہاں ملت کی ضروریات، خدمت کرنے کا میدان نہ ہوں بلکہ لیڈری حاصل کرنے کا سستا ذریعہ بن جائیں۔ جہاں لوگ اجتماعی احساس سے اس قدر نا آشنا ہوں کہ اختلافات پر گالی گلوچ ہونے لگے اور ترک کلام کی نوبت آ جائے ۔ جہاں لوگوں کی سطحیت کا عالم یہ ہو کہ اتحاد کے بجائے اختلاف کے اجزاء ڈھونڈتے ہوں ، جہاں گروہ بندی اس شدت کو پہنچی ہوئی ہو کہ اپنے دائرہ سے باہر نہ کسی حق کو تسلیم کریں اور نہ اپنے سوا کسی کو کام کرنے کا اہل سمجھتے ہوں ۔ جہاں بستی کا یہ عالم ہو اور جہاں اجتماعی اوصاف کی اس درجہ کمی ہو وہاں تمام لوگ آخر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کس طرح ہوں گے ۔ ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سب سے ضروری کام یہ ہے کہ قوم کو اخلاقی پستی سے نکالا جائے اور اس کے اندر اجتماعی احساس پیدا کیا جائے ۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارے اندر کوئی اجتماعیت برپا ہو سکے ۔

اتحاد اور اجتماعیت کے بغیر ہمارا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اور اتحاد اور اجتماعیت ایسی چیز ہے جو پوری طرح ہمارے بس میں ہے۔ وہ کسی بھی طرح ہمارے لئے نا ممکن نہیں۔ بقیہ تمام چیزوں کے لئے دوسروں کو بدلنا پڑتا ہے ۔ جب کہ اتحاد قائم کرنے کے لئے ہمیں صرف اپنے آپ کو بدلنا ہے ۔ اب اگر ایک ایسے امکان کو بھی ہم حاصل نہیں کرتے جو خود ہمارے اپنے بس میں ہو تو تاریخ ہم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ مستقبل کا مورخ یقیناً ہم کو مجرم ٹھہرائے گا، خواہ اپنے طور پر ہم دوسروں کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار سمجھتے ہوں ۔ (ماہنامہ الفرقان جمادی الثانی ۱۳۸۴ھ)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page