مسجد کا سبق
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
مسجد کا سبق
مسجد کے صحن اور برآمدے میں نمازی بکھرے ہوئے تھے۔ کوئی وضو کر رہا تھا، کوئی سنتوں میں مشغول تھا، کوئی فارغ ہو کر بیٹھا ہوا تھا۔ غرض برآمدے سے لے کر صحن تک مختلف لوگ مختلف حالتوں میں مشغول تھے۔ سب ایک دوسرے سے الگ دکھائی دیتے تھے۔ ہر ایک اپنے انفرادی عمل میں مصروف نظر آتا تھا۔
اتنے میں گھڑی نے ٹن ٹن پانچ بجائے اور امام صاحب اپنے حجرہ سے نکل کر مصلے پر کھڑے ہو گئے۔ "اللہ اکبر اللہ اکبر" کی بلند آواز نے لوگوں کو بتایا کہ جماعت کھڑی ہو گئی ہے۔ امام کے پیچھے ایک کے بعد ایک صفیں بننے لگیں۔ جو لوگ مسجد کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے تھے، آکر صف میں ملنے لگے۔ کچھ لوگ پہلے پہنچے۔ کچھ لوگ دیر میں آ کر صف میں شامل ہوئے۔ چند منٹ کے اندر سارا پھیلا ہوا مجمع امام کے پیچھے قطار در قطار ایک منظم فوج کی طرح کھڑا ہو گیا۔ سب صف کے اندر شامل تھے۔ ہر شخص کا رخ ایک تھا۔ ہر شخص ایک آواز پر حرکت کر رہا تھا۔ سب ایک ساتھ اٹھتے ، ایک ساتھ بیٹھتے اور ایک ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جاتے۔
یہ منظر دیکھ کر دل نے کہا" جو منظر مسجد کے اندر دکھائی دے رہا ہے، کیا وہی مسجد کے باہر بھی بنے گا، کیا مسلمانوں کا بکھرا ہوا قافلہ سب ایک مرکز پر جمع ہو جائے گا۔ کیا یہ نماز پڑھنے والے مسجد کے باہر بھی مسجد کا سبق وہرائیں گے۔
یہ واقعہ بے شمار مسجدوں میں ہر روز ہوتا ہے۔ ہر روز نماز کے ذریعہ مظاہرہ کر کے مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کیسی ہونی چاہئے۔ مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا، مسجد کا عمل مسجد سے باہر لوگوں کی زندگیوں میں واقعہ نہیں بنتا۔
مسجد کی نماز بیک وقت دو چیزوں کا سبق ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ خدا کے آگے جھک جائیں، وہ خدا کے سامنے عاجز بن کر رہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ایک آواز پر حرکت کریں، دہ دنیا میں نظم اور اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ لوگ روزانہ پانچ بار مسجد میں یہ سبق لیتے ہیں۔ مگر مسجد کے باہر آتے ہی اسے بھول جاتے ہیں۔ ان کی مسجد سے باہر کی زندگی میں نہ عجز اور تواضع کا رنگ نظر آتا اور نہ اتحاد اور اجتماعیت کا۔ حالاں کہ یہ دونوں چیزیں اتنی اہم ہیں کہ اگر وہ مسلمانوں کی زندگی میں پوری طرح آجائیں تو ان کا وجود دنیا میں ایک عظیم انقلاب کا سبب بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues