Al-Risala · November 1981 · page 34

کہہ لیجیے

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۱، صفحہ ۳۴

کہہ لیجیے

ایک مولوی صاحب ایک مسلمان وکیل سے ملنے گئے۔ بات چیت کے دوران وکیل کی زبان سے کوئی ایسا فقرہ نکل گیا جو مولوی صاحب کے روایتی دینی ذوق کے خلاف تھا۔ وہ وکیل کے اوپر بگڑ گئے اور اس کو بدتمیز، دہر یہ وغیرہ سب کچھ کہہ ڈالا۔ وکیل بالکل خاموشی کے ساتھ مولوی صاحب کی باتیں سنتا رہا۔ جب وہ چپ ہوئے تو وکیل نے مسکرا کر کہا:

اور کہہ لیجیے جو کچھ کہنا ہو ۔ ۔ ۔ ۔

وکیل کی زبان سے یہ جملہ سن کر مولوی صاحب اچانک بالکل نرم پڑ گئے۔ ان کا سارا جوش جاتا رہا۔ وکیل کے ایک ٹھنڈے جملے نے مولوی صاحب کی غصہ کی آگ کو بالکل بجھا دیا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ بالکل دوسری فضا میں ہوئی ۔ ایک ملاقات جس کا آغاز ناخوش گوار کلمات کے ساتھ ہوا تھا وہ بالآخر نہایت خوش گوار فضا میں ختم ہوئی۔

معاشرتی زندگی میں اکثر جھگڑے کسی معمولی بات پر شروع ہوتے ہیں۔ کسی کی ایک بات سے ہمارے نفس کو دھکا لگتا ہے ، ہمارے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور ہم اس آدمی سے لڑ پڑتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاف کر دینا سب سے بڑا انتقام ہے۔ کسی کی بیہودہ حرکت پر اگر آدمی چپ رہ جائے تو اس کو ایک ایسی خوشی حاصل ہوتی ہے جو تمام خوشیوں سے زیادہ لذیذ ہے۔ دوسری طرف وہ اپنے حریف کو ایک ایسی کسک میں مبتلا کر دیتا ہے جو زندگی بھر اس کا پیچھا کئے رہتی ہے، وہ اس کے اوپر ایسا مسلط ہوتی ہے کہ کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔

اکثر لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ کوئی شخص زیادتی کرے تو "اینٹ کا جواب پتھر سے" دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور آئندہ وہ اور بھی زیادہ بری حرکتیں کرے گا۔ مگر یہ بات سراسر بے بنیاد ہے۔ جوابی کارروائی نہ کرنے سے اگر یہ اندیشہ ہے کہ آدمی کا حوصلہ بڑھے گا تو جوابی کارروائی کرنے میں اس سے بھی زیادہ بڑا اندیشہ یہ ہے کہ اس کے اندر انتقامی آگ بھڑک اٹھے اور وہ انتقامی جذبہ میں اندھا ہو کر پہلے سے بھی زیادہ بڑی بیہودگی پر اتر آئے۔

حقیقت یہ ہے کہ معاف کرنا یا نظر انداز کر دینا خود ایک کارروائی ہے۔ معاف کرنے والا آدمی خود بدلہ نہ لے کر خدا کو اپنی جگہ کھڑا کر دیتا ہے، وہ فطرت کو بروئے کار آنے کا موقع دیتا ہے۔ اور یقیناً یہ صورت خود بدلہ لینے سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1981 All issues

Printed page