معلومات نہیں، ذہنی رجحان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷
تذکیر القرآن التوبہ ۹ اے ایمان والو، تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے لگ جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کا سامان تو بہت تھوڑا ہے۔ اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو دود ناک سزا دے گا اور تمھاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اللہ خود اس کی مدد کر چکا ہے جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا، وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور اللہ نے کافروں کی بات نیچی کر دی اور اللہ ہی کی بات تو اونچی ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے ۔ ۴۰ - ۳۸ یہ آیتیں غزوہ تبوک (۹ھ) کے ذیل میں اتریں۔ اس موقع پر مدینہ کے منافقین کی طرف سے جو عمل ظاہر ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمزور ایمان والے لوگ جب کسی اسلامی معاشرہ میں داخل ہوجاتے ہیں تو نازک مواقع پر ان کا کردار کیا ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اسلام سے تعلق کے دو درجے ہیں۔ ایک یہ کہ اسی سے آدمی کی تمام وفاداریاں وابستہ ہو جائیں۔ وہ آدمی کے لئے زندگی و موت کا مسئلہ بن جائے۔ دوسرے یہ کہ آدمی کی حقیقی دلچسپیاں تو کہیں اور اٹکی ہوئی ہوں اور اوپر ہی طور پر وہ اسلام کا اقرار کر لے۔ پہلی قسم کے لوگ سچے مومن ہیں اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو شریعت کی اصطلاح میں منافق کہا گیا ہے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ عام حالات میں بھی وہ اسلام کو پکڑے ہوئے ہوتا ہے اور قربانی کے لمحات میں بھی وہ پوری طرح اس پر قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس منافق کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بے ضرر اسلام یا نمائشی دینداری میں تو بہت آگے دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب قربانی کی سطح پر اسلام کے تقاضوں کو اختیار کرنا ہو تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مومن کے سامنے اصلاً آخرت ہوتی ہے اور منافق کے سامنے اصلاً دنیا۔ مومن آخرت کی بے پایاں نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا، اس لئے جب بھی دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز اس کے راستہ میں حائل ہو تو وہ اس کو نظر انداز کر کے دین کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس منافق ایسے اسلام کو پسند کرتا ہے جس میں دنیا کو بگاڑے بغیر اسلامیت کا کریڈٹ مل رہا ہو۔ اس لئے جب ایسا موقع آتا ہے کہ دنیا کو کھو کر اسلام کو پانا ہو تو وہ دنیا کی طرف جھک جاتا ہے، خواہ اس کے نتیجہ میں اسلام کی رسی اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ اسلام اور غیر اسلام کی مکش مکش کے جو لمحات موجودہ دنیا میں آتے ہیں وہ بظاہر دیکھنے والوں کو اگر چہ در انسانی گروہوں کی کش کش دکھائی دیتی ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ ایسے ہر موقع پر خود خدا اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے کسی واقعہ کو اسباب کے روپ میں اس لئے ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کو خدمت دین کا کریڈٹ دیا جائے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کر چکے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues