Al-Risala · December 1981 · page 28

معلومات نہیں، ذہنی رجحان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اگر نفع قریب ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمھارے پیچھے ہو لیتے مگر یہ منزل ان پر کٹھن ہوگئی۔ اب وہ قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہو سکتا تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔ ۴۲ ۔ اُم مدینہ کے جن لوگوں کو منافقت کہا گیا وہ کوئی جاسوس نہ تھے بلکہ کمزور عقیدہ کے مسلمان تھے۔ انھوں نے اسلام کو حق سمجھ کر اس کا اقرار کیا تھا۔ وہ اسلام کی ان تمام تعلیمات پر عمل کرتے تھے جو ان کی دنیوی مصلحتوں کے خلاف نہ ہوں۔ مگر جب اسلام کا تقاضا ان کے دنیوی تقاضوں سے ٹکراتا تو ایسے موقع پر وہ اسلامی تقاضے کو چھوڑ کر اپنے دنیوی تقاضے کو پکڑ لیتے۔ مدینہ کے معاشرہ میں مومن اس شخص کا نام تھا جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کئے ہوئے ہو اور منافق وہ تھا جو اسلام کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لئے تیار نہ ہو۔ تبوک کا معاملہ ایک علامتی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں مومن کون ہوتا ہے اور منافق کون۔ اس موقع پر روم جیسی بڑی اور منظم طاقت سے مقابلہ کے لئے نکلنا تھا۔ زمانہ شدید گرمی کا تھا فصل بالکل کاٹنے کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ ہر قسم کی ناساز گاری کا مقابلہ کرتے ہوئے شام کی دور دراز سرحد پر پہنچنا تھا۔ پھر مسلمانوں میں کچھ سامان والے تھے اور کچھ بے سامان والے۔ کچھ آزاد تھے اور کچھ اپنے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ مگر حکم ہوا کہ ہر حال میں نکلو، کسی بھی چیز کو اپنے لئے عذر نہ بناؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے یہاں اصل مسئلہ مقدار کا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کو پیش کر دے۔ یہی در اصل جنت کی قیمت ہے، خواہ وہ بظاہر دیکھنے والوں کے نزدیک کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔

منافق کی خاص پہچان یہ ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ یہ مشقت سفر کر کے خدمتِ اسلام کا ایک بڑا کریڈٹ مل رہا ہے تو وہ فوراً ایسے سفر کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا سفر در پیش ہو جس میں مشقتیں ہوں اور سب کچھ کر کے بھی بظاہر کوئی عزت اور کامیابی ملنے والی نہ ہو تو ایسی دینی مہم کے لئے اس کے اندر رغبت پیدا نہیں ہوتی۔

ایک حقیقی دینی مہم سامنے ہو اور آدمی عذرات پیش کر کے اس سے الگ رہنا چاہے تو یہ صاف طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کے دین کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام نہیں دیا ہے۔ عذر پیش کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ پیش نظر مقصد کے مقابلہ میں کوئی اور چیز آدمی کے نزدیک زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا عذر کسی آدمی کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرنے والا ہے نہ یہ کہ اس کی بنا پر اس کو مقبولین کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ منافق دراصل خدا سے بے پروا ہو کر بندوں کی پروا کرنا ہے۔ آدمی اگر خدا کی قدرت کو جان لے تو وہ کبھی ایسا نہ کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues

Printed page