معلومات نہیں، ذہنی رجحان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۱، صفحہ ۲۹
تذکیر القرآن التوبہ ۹ اللہ تم کو معاف کرے، تم نے کیوں انہیں اجازت دے دی۔ یہاں تک کہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔ جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ وہ اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد نہ کریں اور اللہ ڈرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ تم سے اجازت تو وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں۔ اور اگر وہ نکلنا چاہتے تو ضرور وہ اس کا کچھ سامان کر لیتے ۔ مگر اللہ نے ان کا اٹھنا پسند نہ کیا ، اس لئے انہیں جما دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو ۴۳ - ۴۴ ۔ منافق وہ ہے جو اسلام کے نفع بخش یا بے ضرر پہلوؤں میں آگے آگے رہے مگر جب اس کے مفادات پر زد پڑتی نظر آئے تو وہ پیچھے ہٹ جائے۔ ایسے مواقع پر اس قسم کے کمزور لوگ جس چیز کا سہارا لیتے ہیں وہ عذر ہے۔ وہ اپنی بے عملی کو خوبصورت توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سربراہ اگر اجتماعی مصالح کے پیش نظر ان کے عذر کو قبول کر لے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ انھوں نے اپنے الفاظ کے پردے میں نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی بے عملی کو چھپالیا۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور وہ ہر آدمی کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ خدا ایسے لوگوں کا راز کبھی دنیا میں کھول دیتا ہے اور آخرت میں تو بہر حال ہر ایک کا راز کھولا جانے والا ہے۔
کسی کا لڑکا بیمار ہو یا کسی کی لڑکی کی شادی ہو تو اس وقت وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو اس سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی اور اس کا مال تو اسی لئے ہے کہ ایسا کوئی موقع آئے تو وہ اپنا سب کچھ نثار کر کے ان کے کام آ سکے۔ ایسا کوئی وقت اس کے لئے بڑھ کر قربانی دینے کا ہوتا ہے نہ کہ عذرات کی آڑ تلاش کرنے کا۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ جو شخص اپنے دین میں سنجیدہ ہو وہ دین کے لئے قربانی کا موقع آنے پر کبھی عذر تلاش نہیں کرے گا۔ اس کے سینہ میں جو ایمانی جذبات بے قرار تھے وہ تو گویا اسی دن کے انتظار میں تھے کہ جب کوئی موقع آئے تو وہ اپنے آپ کو نثار کر کے خدا کی نظر میں اپنے کو وفادار ثابت کر سکے۔ پھر ایسا موقع پیش آنے پر عذر کا سہارا کیوں ڈھونڈے گا۔
مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے اور ڈر کا جذبہ آدمی کے اندر سب سے زیادہ قوی جذبہ ہے۔ ڈر کا جذبہ دوسرے تمام جذبات پر غالب آ جاتا ہے۔ جس چیز سے آدمی کو ڈر اور اندیشہ کا تعلق ہو اس کے بارے میں وہ آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ڈر کی سطح پر خدا کا مومن بن جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کس قسم کا رد عمل پیش کرنا چاہئے۔ آخرت کا نفع سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے لئے قربانی دینے میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اس شک کے پردہ کو پھاڑنا ہی اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1981 All issues