Al-Risala · February 1981 · page 19

اسلامی دعوت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹

میں چھپا ہوا ہے۔ مومن پر قیامت سے پہلے قیامت گزر جاتی ہے جب کہ دوسروں پر قیامت اس وقت گزرے گی جب کہ وہ عملاً آچکی ہوگی۔

اسلامی دعوت

آگ کا انگارہ جب خارج کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے تو اسی کو ہم آنچ کہتے ہیں۔ برف کا تو دہ جب اپنے ماحول کو اپنی حقیقت سے متعارف کرتا ہے تو اسی کو ٹھنڈک کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا بھی ہے۔ زمین پر کسی مومن کا وجود میں آنا خود ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلامی دعوت ضرور وجود میں آئے گی کسی نفس انسانی میں جب وہ خدائی بھونچال آتا ہے جس کو اسلام کہا گیا ہے تو اس کے بعد لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے باہر کی دنیا اس سے باخبر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی اسلامی دعوت کا آغاز ہے۔ اسلامی دعوت فرد انسانی میں انقلاب لانے کی دعوت ہے نہ کہ کسی قسم کے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ میں اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی ۔ اسلامی انقلاب اصلاً ایک نفسیاتی انقلاب ہے اور نفسیاتی انقلاب کسی نفس ہی کے اندر وقوع میں آ سکتا ہے۔ نفس کا وجود صرف ایک فرد میں ہوتا ہے اس لئے اسلام کی گھٹنا بھی ایک فرد ہی میں گھٹتی ہے۔ قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کا اپنا کوئی نفسیاتی وجود نہیں۔ اس لئے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنانا ایسا ہی ہے جیسے خالی فضا میں تیر مارنا۔

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے قومی حالات یا کسی جغرافیہ کے تمدنی احوال لوگوں میں ہلچل پیدا کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کے درمیان ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے اندر ان کے قومی یا سیاسی حالات کے نتیجہ میں کوئی حرکت اٹھ کھڑی ہو تو اس کا نام اسلامی تحریک نہیں ہو جائے گا۔ اگر مسلمان اپنے قومی دشمن سے تصادم کو جہاد کہیں یا اپنی قومی تعمیر کو اسلامی نظام کی اصطلاحوں میں بیان کریں تو یہ اسلام نہیں بلکہ غیر اسلام کو اسلام کا نام دینا ہے جو آدمی کو صرف سزا کا مستحق بناتا ہے نہ یہ کہ اس کی بنا پر آدمی کو کوئی اسلامی انعام دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی اسلامی تحریکیں عظیم الشان پیمانہ پر اٹھیں مگر عملاً وہ اس طرح بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں جیسے خدا کے نزدیک ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کے سب قومی ہنگامے ہیں اور کسی قوم کے قومی ہنگاموں کا نام اسلام نہیں ۔ اسلامی دعوت کی تحریک ایک لفظ میں جنت کی طرف بلانے کی تحریک ہے۔ جنت خدا کی لطیف و نفیس دنیا ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اخلاق خداوندی کی سطح پر جیتے ہوں، جنہوں نے دنیوی تعلقات میں کمال انسانیت کا ثبوت دیا ہو، جو خدا کی ابدی دنیا سے اثر لے کر متحرک ہوئے ہوں نہ کہ سیاسی اور معاشی حالات کے اثر سے۔ آج کی دنیا میں اسی کا چناؤ ہو رہا ہے۔ جو لوگ اپنی نفسیات اور کردار کے اعتبار سے جنتی ماحول میں بسانے کے قابل

‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues

Printed page