اسلامی دعوت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰
ٹھہریں گے ان کو چھانٹ کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ تمام لوگ خدا کی رحمتوں سے محروم کر کے دور پھینک دئے جائیں گے تاکہ ابدی طور پر تاریکیوں کے غار میں بھٹکتے رہیں۔
انسان کے سوا بقیہ دنیا بے حد حسین ہے۔ ہرے بھرے درختوں اور نرم و نازک پھولوں کو دیکھئے ، زمین و آسمان کے قدرتی مناظر کا معائنہ کیجئے ۔ ان کی بے پناہ کشش آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے گی کہ ان سے نظر ہٹانے کا جی نہ چاہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا ظلم اور گندگی کا کوڑا خانہ بنی ہوئی ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا کی سطح پر خدا کی مرضی براہِ راست اپنی پوری شکل میں نافذ ہے، یہ دنیا ویسی ہی ہے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ ہو۔ اس کے برعکس انسان کو خدا نے آزادی دے دی ہے۔ اسی آزادی کے غلط استعمال نے انسانی دنیا کو جہنم کدہ بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک صرف خدا ہے۔ خدا جہاں اپنے اختیار کو روک لے وہیں سے جہنم شروع ہو جاتی ہے اور خدا جب اپنے اختیار کو نافذ کر دے تو اسی کا نام جنت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ خدا نے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا کہ انسان کو آزادی دے دی کہ وہ خدا کی حسین دنیا کو اپنی باغیانہ کارروائیوں سے عذاب خانہ بنا دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ قیمتی انسان چنے نہیں جاسکتے تھے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ خدا کی وسیع دنیا اپنی ان گنت چیزوں کے ساتھ مکمل طور پر خدا کی اطاعت گزار ہے۔ حقیر چیونٹی سے لے کر عظیم کہکشانی نظاموں تک کوئی چیز بھی نہیں جو خدا کی مرضی سے ادنی انحراف کرتی ہو۔ تاہم یہ تمام چیزیں اس لئے محکوم ہیں کہ وہ بے اختیار ہیں۔ فرماں برداری کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ان کے لئے ممکن نہیں۔ اب خدا کو ایسی با شعور اور حقیقت پسند مخلوق درکار تھی جو اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائے ۔ جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم بنالے۔ یہی وہ انتہائی نادر ہستیاں ہیں جن کو چھانٹنے کے لئے خدا کا یہ عظیم کارخانہ آباد کیا گیا ہے۔ قدیم ترین زمانہ سے لے کر آج تک انسانی ذہن کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی رہی ہے وہ انسان کی دنیا میں خرابی کا مسئلہ (Problem of Evil) ہے۔ ایک مفکر کے الفاظ میں ساری انسانی تاریخ ظلم اور برائی کا رجسٹر معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنی آزادی کا انتہائی ظالمانہ استعمال کرتا ہے۔ مگر اتنی بڑی برائی کو خدا نے صرف اس لئے گوارا کیا کہ اس کے بغیر اس اعلی نوع کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا تھا جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ اختیار اور آزادی کے ماحول ہی میں وہ انسان چنے جاسکتے ہیں جن کے متعلق خدا کے نگراں فرشتے یہ گواہی دیں کہ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے مکمل اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو خدا کی خاطر بے اختیار کر لیا تھا۔ دنیا کی بے پناہ برائیاں دراصل ایک بے پناہ بھلائی کی قیمت ہیں۔ یہ بھلائی کہ انسانوں کے جنگل
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues