اسلامی دعوت
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱
سے وہ سعید روحیں چھان کر نکالی جائیں جو پورے شعور اور مکمل ارادہ کے ساتھ اپنے کو خدا کا محکوم بنالیں ۔ جو محض حقیقت پسندی کی بنا پر خدا کی محکومی اختیار کریں نہ کہ مجبوری کی بنا پر۔
یہ وہ انوکھی ہستیاں ہیں جن کو یہ موقع تھا کہ وہ حق کو جھٹلا دیں مگر انھوں نے حق کو نہیں جھٹلایا۔ جن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی انا کا جھنڈا اونچا کریں۔ مگر وہ اپنے کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خدا کو صدر نشین بنانے پر راضی ہوگئے ۔ جن کو پوری طرح یہ آزادی ملی ہوئی تھی کہ وہ اپنی قیادت اور اپنے مفادات کا گنبد کھڑا کریں مگر انھوں نے ہر اپنے کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈھادیا اور صرف حق کا گنبد کھڑا کر کے انھوں نے خوشی حاصل کی۔ اس قسم کی نادر روحیں اس کے بغیر جنی نہیں جاسکتی تھیں کہ ان کو مکمل آزادی کے ماحول میں رکھا جائے۔ اور آزادی کا حقیقی ماحول قائم کرنے کی ہر قیمت برداشت کی جائے ۔ اسلامی دعوت کا مقصد ایسی ہی روحوں کو تلاش کرنا ہے۔ اسلامی انقلاب دنیا میں سیاسی اور تمدنی انقلاب اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں، تاہم وہ اس کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ کسی معاشرہ میں جب قابلِ لحاظ تعداد ایسے افراد کی جمع ہو جائے جو اللہ کے لئے جینا اور اللہ کے لئے مرنا چاہتے ہوں تو قدرتی طور پر وقت کی سیاست اور تمدن پر انھیں کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست یا اسلامی نظام نام ہے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کا جو اللہ کے آگے اپنے کو بے نفس کر چکے ہوں۔ جنھوں نے اپنی "میں" کو خدا کے عظیم تر "میں" میں گم کر دیا ہو۔ جن کے جذبات و احساسات آخرت سے اتنا زیادہ متعلق ہو جائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی حوصلہ باقی نہ رہے جو دوسرے کے دل کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرتے ہوں۔ ایسے ہی افراد اسلامی نظام قائم کرتے ہیں اور ایسے افراد اسی وقت بنتے ہیں جب کہ ہر قسم کے دنیوی مقصد سے بلند ہو کر خالص آخرت کے لئے تحریک چلائی جائے۔ اس کے برعکس اگر نعروں اور جلسوں کے زور پر کوئی انقلاب برپا کیا جائے تو وہ انقلاب نہیں ایک ڈرامہ جنگ ہوگا جہاں جہاں اسلام کے نعرے تو بہت ہوں گے مگر اسلام کے عمل کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ ایسے لوگ حق کے تقاضوں کا نام لیں گے مگر عملاً اپنے گروہ کے تقاضوں کے سوا کوئی چیز ان کے سامنے نہ ہوگی۔ وہ انقلاب اسلامی کے ہنگامے برپا کریں گے مگر حقیقتاً ان کا مدعا یہ ہوگا کہ دوسروں کو تخت سے ہٹا کر خود اس پر قابض ہو جائیں ۔ وہ انسانیت اور اخلاق کے نام پر جلسوں اور تقریروں کی دھوم مچائیں گے مگر اس کا مقصود صرف یہ ہوگا کہ ایک خوبصورت عنوان پر اپنی قیادت کی شان قائم کریں۔ اسلامی انقلاب کی واحد لازمی شرط "بے میں" انسانوں کی فراہمی ہے اور موجودہ طرز کی تحریکوں سے سب سے کم جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ بلکہ سیاسی اور قومی انداز کی یہ تحریکیں تو "میں" کی غذا ہیں نہ کہ "میں" کی نفسیات کو ختم کرنے والی۔ خارجی انقلاب کو نشانہ بنانے والی تحریک افراد کے اندر کردار نہیں پیدا کر سکتی۔ کردار ہمیشہ ذاتی محرک سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ خارجی محرک سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues