مسلم دنیا میں سیاسی ردعمل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷
شروع ہو جاتی ہے۔ اہل حق خدائی طاقت سے مسلح ہو کر اہل باطل پر غالب آتے ہیں۔ دعوت حق اور اتمام حجت کے بغیر محض سیاسی کارروائیوں سے کبھی کسی مسلم گروہ کو غیر مسلم طاقتوں پر غلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ خدا کی سنت ہے اور خدا کی سنت میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی (انعام ۱۳۱)
غیر مسلم اقوام کے لئے غلبہ کا فیصلہ خدا کے عام قانون امتحان کے تحت ہوتا ہے (یونس ۱۴) مگر اہل ایمان کے لئے غلبہ کا فیصلہ قانون اتمام حجت کے تحت ہوتا ہے۔ اگر ہم غیر مسلم گروہ پر دعوتی عمل کو انجام نہ دیں تو ہم کو یہ امید بھی نہ کرنی چاہئے کہ غیر مسلم گروہ پر ہمیں غلبہ عطا کیا جائے گا۔ دعوتی عمل ہی تو غیر مسلم گروہ پر غلبہ کی قیمت ہے۔ پھر جب قیمت ادا نہ کی گئی ہو تو متاع مطلوب آخر کس طرح حاصل ہوگی۔
مسلم دنیا میں سیاسی ردعمل
چودھویں صدی ہجری کا آغاز اس وقت ہوا جب کہ انیسویں صدی عیسوی کا خاتمہ ہو رہا تھا۔ اس اعتبار سے چودھویں صدی ہجری اسلامی تاریخ کی اہم ترین صدی تھی۔ کیوں کہ یہ اس وقت آئی جب کہ اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہونے والا عمل اپنی آخری تکمیل کے مرحلہ تک پہنچ گیا تھا۔ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جس عالمی ہدایت کا دروازہ کھولا تھا، اس کو بروئے کار لانے کے حالات اور ضروری وسائل اپنی کامل صورت میں مہیا ہو کر ہمارے سامنے آ چکے تھے۔ مگر تاریخ کا غالباً یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ یہ دروازہ عین اس وقت خود مسلمانوں کے ہاتھوں بند ہو گیا جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں کھولا تھا۔ جدید انقلاب نے یورپ کو جو طاقتیں دی تھیں ان کو اس نے اسی طرح اپنے قومی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جس طرح کوئی بھی قوم ان حالات میں کرتی ہے۔ مغربی قوموں کی دسترس جیسے ہی جدید طاقتوں پر ہوئی ان کے یہاں وہ چیز وجود میں آئی جس کو مغربی استعمار کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے جغرافیہ سے نکل کر خشکی اور تری میں اپنے جھنڈے گاڑے۔ قوموں کے درمیان اپنی تہذیب پھیلائی۔ جن لوگوں نے ان کے راستہ میں رکاوٹ ڈالی ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ مغربی قوموں کے ان عزائم کا براہ راست شکار ہونے والے زیادہ تر مسلمان تھے ۔ کیونکہ اس وقت یورپ کے باہر اکثر آباد دنیا مسلمانوں ہی کے زیرِ اقتدار تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چیز جس کو ہم نے اسلامی انقلاب کا سیکولر نتیجہ کہا ہے، اس کا تعارف مسلمانوں سے اپنے پہلے ہی مرحلہ میں اس حیثیت سے ہوا گویا کہ وہ ایک دشمن طاقت ہے جو مسلمانوں کو ان کی تمام عظمتوں سے محروم کر کے ان کو ایک مغلوب اور پسماندہ قوم بنا دینا چاہتی ہے۔ مغربی انقلاب کا افادی پہلوان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، وہ اس کو اپنے سیاسی اور اقتصادی حریف کی حیثیت سے دیکھنے لگے۔
چودھویں صدی ہجری اسلام کی پوری تاریخ میں پہلی صدی تھی جب کہ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of February 1981 All issues