جرم کی نفسیات
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۹
جرم کی نفسیات
لینن (Lennon) اور چیپ مین (Chapman) امریکہ کے دو بیٹل سنگر (Beatle Singer) تھے ۔ لینن کو نسبتاً زیادہ کامیابی ہوئی۔ وہ کافی مشہور ہو گیا۔ یہ بات چیپ مین کو برداشت نہ ہو سکی۔ اس کے دل میں لینن کے خلاف حسد کا جذبہ جاگ اٹھا۔ یہ جذبہ بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے ایک روز موقع پا کر لینن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اخباری رپورٹ کے مطابق اس قتل کا سبب پیشہ ورانہ رقابت (Professional Rivalry) تھی۔ اس کے بعد چیپ مین کے خلاف مقدمہ چلا۔ قاتل نے اس سلسلے میں عدالت میں اپنا جو بیان دیا ، اس میں اپنی برارت ظاہر کرتے ہوئے اس نے کہا تھا :
There is something bad within me, and there is something good within me too. When this little bad within me overpowers my goodness, I do bad deeds. میرے اندر کچھ برائی ہے۔ اسی کے ساتھ میرے اندر کچھ بھلائی بھی ہے ، جب میری برائی میری بھلائی پر غالب آ جاتی ہے تو اس وقت میں برا کام کر بیٹھتا ہوں۔
قاتل کا یہ جملہ اگر سنجیدہ ذہن کے تحت نکلا ہے تو یقیناً وہ فطرت کی ترجمانی ہے۔ بلاشبہ کچھ مجرم عادی مجرم ہوتے ہیں، ان کو معاف کرنا انسانیت کے اوپر ظلم کرنا ہے۔ مگر بہت سے جرم کرنے والے محض وقتی جذبہ کے تحت جرم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی فطرت زور کرتی ہے۔ اپنے جرم پر انہیں اس قدر افسوس لاحق ہوتا ہے کہ ان کا افسوس خود ان کے لئے ایک داخلی سزا بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس بات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ غلطیوں کو معاف کرو۔ وقتی جذبہ کے تحت جب ایک آدمی کوئی برائی کر بیٹھتا ہے تو اس کے بعد اس کے دل میں خود ہی اس کے خلاف شرمندگی اور افسوس کے جذبات ابھر آتے ہیں۔ اس وقت اگر ہم اس کو معاف کر دیں تو گویا ہم نے اس کے احساس ندامت کو سہارا دیا اور اس کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرے اور دوبارہ ایسی غلطی کرنے سے بچے ۔ اسلام میں اگرچہ قتل کی سزا قتل ہے تاہم ایک خاص صورت کے ساتھ اس کو قابل معافی بھی رکھا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مقتول کے ورثاء اگر قاتل سے دیت لینے پر راضی ہو جائیں تو اس کو دیت لے کر چھوڑ دیا جائے اور اس کو قتل نہ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues