بے کاری
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۸
بے کاری
کان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یقول: اری حضرت عمر فرماتے تھے کہ میں کسی آدمی کو دیکھتا ہوں اور وہ الرجل يعجبني فاذا قيل لا صناعة له سقط مجھے پسند آتا ہے۔ مگر جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی کام من عيني (التراتیب الاداریہ تلکتانی، جزرسوم صفحہ ۲۳) نہیں کرتا تو وہ میری نگاہوں سے گر جاتا ہے۔ یہی روایت ابن الجوزی نے تلبیس ابلیس میں ان الفاظ میں نقل کی ہے:
عن محمد بن عاصم قال : بلغنى ان عمر بن محمد بن عاصم کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر الخطاب كان اذا رأى غلا ما فا عجبه سأل هل جب کسی نوجوان کو دیکھتے اور وہ انھیں اچھا معلوم ہوتا له حرفة - فان قيل لا، سقط من عينه تو پوچھتے کیا اس کا کوئی کام ہے۔ اگر کہا جاتا کہ نہیں تو وہ ان کی نگاہ سے گر جاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ بے کاری نہایت بری چیز ہے۔ وہ آدمی کی تمام بہترین صلاحیتوں کو کھا جاتی ہے۔ بے کار آدمی بظاہر دیکھنے میں زندہ معلوم ہوتا ہے مگر حقیقتہ وہ ایک مرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ اس کے اندر سے وہ تمام لطیف احساسات ختم ہو جاتے ہیں جو کسی انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتے ہیں۔
بے کاری کی ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی محنت اور مشقت کی چیزوں سے گھبراتا ہے اور اس کے اندر یہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی کہ کوئی بے مشقت کا کام اسے مل جائے۔ چنانچہ وہ اپنے پسندیدہ کام کے انتظار میں بے کار پڑارہتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی کو وراثت میں یا اور کسی اتفاقی سبب سے ایسے ذرائع معاش حاصل ہو جائیں جن کے لئے اس نے کوئی ذاتی کسب نہیں کیا تھا۔ مثلاً بینک میں جمع شدہ رقم یا جائداد جس کی آمدنی یا کمایہ اس کو اپنے آپ ہر ماہ ملتا رہے۔ اس قسم کی ہر صورت بے کاری کی صورت ہے اور وہ آدمی کے لئے قاتل ہے، خواہ بظاہر وہ خوش پوش ہو اور چلتا پھرتا نظر آتا ہو۔
ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے لئے کوئی جائز کام اختیار کرے اور صبح شام اپنے آپ کو اس میں مشغول رکھے ۔ جس کے پاس کام کی مشغولیت نہیں اس کے پاس زندگی بھی نہیں۔ بے کار آدمی کو کبھی بھی آپ اعلیٰ انسان نہیں پائیں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues