Al-Risala · March 1983 · page 4

خدا کی نظر سے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۴

خدا کی نظر سے

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص کسی شخص کو مار ڈالے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو مار ڈالا ہو یا زمین میں فساد کیا ہو، تو گویا اس نے سب لوگوں کو مار ڈالا۔ اور جس نے کسی کو زندگی دی تو گویا اس نے سب لوگوں کو زندگی دی (مائدہ ۳۲)

عام طور پر لوگ ان بڑے بڑے مجرمین کو مجرم سمجھتے ہیں جنھوں نے "ایٹم بم" گرا کر پوری پوری بستی کو تباہ کر ڈالا ہو۔ مگر اللہ کی نظر میں ایک شخص کو قتل کر دینے والا بھی اتنا ہی بڑا مجرم ہے جتنا سارے انسانوں کو قتل کرنے والا۔ کیونکہ ایک شخص کو قتل کرکے وہ آدمی اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ انسانی جان کے بارے میں اس کے اندر احترام کی نفسیات نہیں۔ اور جو شخص ایک بندہ خدا کے قتل کے بارے میں بے خوف ہو وہ سارے بندگان خدا کے بارے میں بے خوف ہو سکتا ہے۔

خدا کی نظر میں انفرادی جرم بھی اتنا ہی بڑا ہے جتنا کوئی اجتماعی جرم۔ کسی مقام پر بڑا فساد ہو جائے یا قومی سطح پر کوئی مصیبت پیش آجائے تو تمام لوگ اس کے سلسلہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے متحرک ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس جب ایک شخص کو ستایا جارہا ہو یا ایک شخص کو کوئی ظالم اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہو تو ایسے واقعہ کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں ، اس کے دفعیہ کے لئے کوئی نہیں اٹھتا۔ مگر خدا کی نظر میں فرد کے خلاف ظلم بھی اتنا ہی بڑا ہے جتنا کسی اجتماع کے خلاف ظلم۔

جو لوگ اجتماعی ظلم کے موقع پر سرگرمی دکھائیں اور جب انفرادی ظلم کا موقع سامنے آئے تو وہ متحرک نہ ہوں وہ معاملہ کو اپنی نظر سے دیکھ رہے ہیں نہ کہ خدا کی نظر سے اور جو لوگ معاملہ کو اپنی نظر سے دیکھیں وہ خدا کے یہاں کسی انعام کے مستحق کس طرح ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ معاملہ کو خدا کی نظر سے دیکھتے تو دونوں قسم کے مواقع پر متحرک ہوتے۔ جب وہ ایک قسم کے موقع پر متحرک ہوئے اور دوسری قسم کے موقع پر خاموش بیٹھے رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اٹھنا ان کے اپنے جذبات و خواہشات کے زیر اثر تھا نہ کہ خدا کے حکم کے زیر اثر۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page