Al-Risala · March 1983 · page 5

انسان کو رب ابنانا

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۵

انسان کو رب ابنانا

قرآن میں یہود ونصارٰی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے احبار (علماء) اور رہبان (مشائخ) کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا اور مسیح بن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں (التوبہ ۳۱)

امام احمد اور امام ترمذی نے عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے۔ وہ زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے، ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا۔ انھوں نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار و رہبان کی عبادت تو کبھی نہیں کی۔ آپ نے فرمایا :

بلٰی انہم حرموا علیہم الحلال وا احلو الهم ہاں، ان کے علماء و مشائخ نے ان پر حلال کو حرام کیا اور الحرام فاتبعوهم فذلك عبادتهم ایاهم حرام کو ان کے لئے حلال کیا۔ تو انھوں نے ان کی پیروی کی۔ (تفسیر ابن کثیر) ان کا یہی فعل علماء و مشائخ کی عبادت ہے۔

عبادت کی یہ قسم کوئی انوکھی نہیں۔ اس کو آج بھی آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے یہاں ایک فتویٰ دیا ایک بزرگ کسی شخص سے بگڑ جائے اور اس کے خلاف انتقامی کاروائی کرے تو اس کے تمام معتقدین اس میں اس کا ساتھ دیں گے۔ حالانکہ خ کی شریعت میں یہ حرام ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف انتقامی کاروائی کرے ۔ اس کے بعد اس بزرگ کے تمام معتقدین اس کو جائز سمجھ لیں گے کہ اس شخص کو ہر طریقہ سے ستائیں۔ اس کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹی باتیں مشہور کریں۔ اس شخص کے بارے میں خدا کے ان تمام احکام کو بھول جائیں جو انسان کے حقوق یا مسلمان کے احترام کے بارے میں دئے گئے ہیں ایسی صورت پیش آنے کے بعد وہ اپنے بزرگ کو خوش کرنے والے دین پر چلیں گے نہ کہ خدا کو خوش کرنے والے دین پر۔ اس کے لئے وہ حرام کو حلال کریں گے اور حلال کو حرام بنائیں گے اور انھیں کبھی خیال تک نہ آئے گا کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنانے کی غلطی کر رہے ہیں۔ کسی بزرگ سے آدمی کو اتنا شدید تعلق کیوں ہوتا ہے کہ اس کی خاطر وہ خدا کے احکام تک کو بھول جاتا ہے، اس کا راز اداراتی مذہب (Institutionalised Religion) ہے۔ اداراتی مذہب دراصل مذہب کے گدی بن جانے کا دوسرا نام ہے۔ جس طرح جائیداد کے وراثتی نظام میں ایک شخص محض اس لئے ایک بڑی جائیداد کا مالک بن جاتا ہے کہ وہ اس کو وراثت میں مل گئی ہے۔ اسی طرح اداراتی مذہب میں یہ ہوتا ہے کہ ماضی سے بزرگوں کی جو ایک گدی چلی آرہی ہے، بس اسی کی اصل اہمیت ہوتی ہے۔ اور جو شخص اس گدی پر بیٹھ جائے وہ مذکورہ گدی کا گدی نشین ہونے کی وجہ سے ان تمام کرامات دا و اوصاف کا حامل سمجھ لیا جاتا ہے جو روایتی طور پر اس گدی کے بارے میں ماضی سے چلی آرہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page