دو قسم کے بیج
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۶
دو قسم کے بیج
زمین میں ایک سڑا ہوا بیج ڈالا جائے تو وہ مزید سڑ گل کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کو نہ کوئی ہرا لباس ملتا اور نہ اس پر کبھی بہار آتی۔ اس کے اجزاء اگرچہ زمین میں موجود رہتے ہیں مگر ان کے وجود کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ دنیا میں نہ ان کا کوئی مقام ہوتا اور نہ دنیا کی چیزوں میں ان کا کوئی حصہ ہوتا۔ اس کے برعکس زمین میں اگر ایک اچھا بیج ڈالا جائے تو وہ دوبارہ ایک زندہ وجود کے طور پر باہر آتا ہے۔ وہ ایک ہرا بھرا درخت بن کر پہلے سے زیادہ بہتر صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ ساری کائنات اس کے لئے غذائی دستر خوان بن جاتی ہے۔ وہ ایک انتہائی مکمل وجود کی صورت میں زمین کے اوپر اپنی جگہ حاصل کرتا ہے ۔
یہ خدا کی ایک نشانی ہے جو آخرت کے معاملہ کو ہمیں واقعات کی زبان میں بتاتی ہے۔ وہ آخرت کے معاملہ کو ہماری آنکھوں کے سامنے مصور کرتی ہے۔
ایک انسان وہ ہے جو غیر صالح ہے۔ ایسے انسان کی مثال خراب بیج کی ہے۔ وہ مرنے کے بعد زمین میں دفن ہوگا، صرف اس لئے کہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جائے۔ ایک سڑے ہوئے وجود کے سوا اس دنیا میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو صالح انسان ہے۔ اس کی مثال عمدہ بیج کی ہے۔ وہ بھی اگرچہ مرنے کے بعد زمین میں دفن ہوگا مگر وہ اس لئے دفن ہوگا کہ پہلے سے زیادہ شاداب ہو کر ایک نئی زندگی کی صورت میں نمایاں ہو۔ وہ کائنات میں اپنے لئے دوبارہ بہترین مقام پا سکے۔ وہ خدا کے باغ میں سرسبز درخت کی طرح نشو و نما پائے۔
اسی سے جہنم کا معاملہ اور جنت کا معاملہ سمجھا جا سکتا ہے۔ جہنم گویا ایک خراب زمین ہے جہاں تمام سڑے ہوئے بیج پھینک دئے جائیں گے۔ اس کے برعکس جنت گویا بہترین زرخیز زمین ہے جہاں تمام بہترین بیج چھانٹ کر ڈالے جائیں گے تاکہ وہ سرسبز و شاداب فصل کی صورت میں اگیں اور بہترین موافق ماحول میں لہلہائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues