پھر بھی انھیں الفاظ مل گئے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۸
چھوڑی ہوئی سنت با پرواز عاصلمُ صلّ الله عِليهِ وسلم كَ سنّ ِ ولادت میں ھے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مکی دور میں قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ پھر بھی ان کی نصیحت اور خیر خواہی میں لگے ہوئے تھے۔ آپ برابر ان کی ہدایت اور نجات کے لئے دعا کرتے رہتے (يبذل لهم النصيحة ويدعوهم الى النجاة مما هم فيه)
اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ طفیل بن عمر والدوسی مکہ آئے۔ قریش نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس طرح بدگمان کر دیا کہ وہ آپ سے ملتے ہوئے ڈرتے تھے۔ تاہم ایک روز انھوں نے بیت اللہ میں آپ سے قرآن سنا اور اس سے اتنا متاثر ہوئے کہ مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد طفیل بن عمر والدوسی اپنے وطن گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر باپ اور بیوی کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا۔ وہ دوبارہ مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ انھوں نے قبیلہ دوس کے بارے میں سخت تاثر کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں ابن اسحاق نے ان کی جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
ثم دعوت دو سا الى الاسلام فأبطو اعلی ثم جئت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمکۃ فقلت له يانبي الله انه قد غلبنى على دوس الرنا فادع الله عليهم فقال اللھم اھد دوسًا، ارجع الى قومك فادعھم و ارفق بھم (سيرة ابن هشام)
پھر میں نے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی ، مگر انھوں نے ماننے میں دیر کی ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ آیا اور آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول ، قبیلہ دوس کھیل تماشے میں منہمک ہے ، اس کے لئے بد دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا ، اے اللہ قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ مجھ سے فرمایا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ۔ اس کو اسلام کی دعوت دو اور اس کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔
کہنے والے نے آپ سے بددعا کی درخواست کی تھی مگر آپ اس کے جواب میں دعا کرنے لگے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues