Al-Risala · March 1983 · page 9

دعوت سے غفلت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۹

دعوت سے غفلت

ترکی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں ایک قابلِ لحاظ تعداد عیسائیوں کی بھی ہے۔ ترکی کے سلطان سلیم نے ایک بار ارادہ کیا کہ ترکی کے تمام غیر مسلم باشندوں کو اسلام قبول کرنے کا حکم دے دے۔ جو لوگ اسلام قبول کرلیں وہ ترکی میں رہیں اور جو لوگ اسلام قبول نہ کریں ان کو ملک سے نکال دیا جائے۔ اس وقت ترکی کے ایک عالم مفتی جمال سامنے آئے۔ انھوں نے بادشاہ سے صاف لفظوں میں کہا کہ تمھارے لئے ایسا کرنا جائز نہیں (لا یحل لك ذلك)۔ امیر شکیب ارسلان لکھتے ہیں کہ اگر سلطان سلیم کا یہ ارادہ پورا ہو جاتا تو آج ترکی میں عیسائیوں کا وجود نہ ہوتا۔ مگر مفتی جمال نے اس قوت کے ساتھ اس مسئلہ کو پیش کیا اور اس کے حق میں ایسی دلیلیں دیں کہ سلطان سلیم کا عزم اس کے بعد ٹھنڈا ہو کر رہ گیا (تعلیقات بر مقدمہ ابن خلدون، صفحہ ۱۷۷)

اس طرح کی جرات کی مثالیں ہماری جدید تاریخ میں بہت ملتی ہیں۔ مگر ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اسی طرح کی قوت اور اہمیت کے ساتھ کسی عالم نے دعوت الی اللہ کے فریضہ کی طرف عوام یا اربابِ کار کو توجہ دلائی ہو۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔

اس کی وجہ ہمارے علماء کے ذہن پر فقہی نقطہ نظر کا غلبہ ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام علماء کے اندر جو مزاج بناتا ہے اس میں فقہی امور کو پوری شدت کے ساتھ ان کے ذہن پر پر چھایا جاتے ہیں۔ مگر دعوتی امور ان کے ذہن کے خانہ میں جگہ نہیں پاتے۔

ہمارے موجودہ نظامِ تعلیم کی بنیاد فقہ پر ہے نہ کہ دعوت پر۔ اس کا نصاب اور اس کا نظام تمام تر فقہی ضروریات و مسائل کے اعتبار سے بنا ہے۔ دعوتی مسائل و ضروریات کی اس میں کوئی جگہ ہی نہیں۔ ایسی حالت میں یہی ممکن ہے کہ فقہی امور کے بارے میں لوگ بے حد حساس ہوں مگر دعوتی امور کے بارے میں ان کے اندر حساسیت نہ پائی جائے۔

مفتی جمال نے سلطان ترکی سے جو بات کہی وہ بجائے خود بالکل صحیح تھی۔ لیکن اگر ان کے اندر دعوتی ذہن ہوتا تو سلطان سے وہ یہ کہتے کہ دوسری قوموں کو اسلام کے سایہ رحمت میں لانا عین مطلوب ہے اور اس اعتبار سے تمھارا جذبہ قابلِ قدر ہے۔ مگر یہ کام تم کو تبلیغ و دعوت کے ذریعہ کرنا چاہئے نہ کہ جبرو قوت کے ذریعہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page