اسلوبِ بیان
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰
اسلوبِ بیان
عبداللہ بن ابی نے اگر چہ اسلام قبول کر لیا تھا۔ مگر اس کی جاہ پسندی اسے ایک ایسے اسلام کا مخلص اور وفادار نہ بنا سکی جس کی سرداری اس کے سوا کسی اور کو حاصل ہو۔ چنانچہ وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ عل وسلم اور آپ کے اصحاب کے خلاف ساز شیں کیا کرتا تھا۔
ایک بار آپ کے اصحاب نے آپ سے کہا کہ آپ عبداللہ بن ابی کے یہاں تشریف لے چلیں۔ اس سے اس کی عزت افزائی ہوگی اور ممکن ہے کہ اس کی ضد میں کمی ہو اور وہ اسلام کا مخلص بن جائے۔ چنانچہ آپ ایک گدھے پر سوار ہو کر اپنے بعض اصحاب کے ساتھ اس کے مقام کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ عبداللہ بن ابی کے مکان پر پہنچے تو اس کے گھمنڈ میں اور اضافہ ہو گیا۔ اس نے آپ کو گدھے پر دیکھ کر کہا: "ذرا دور رہئے، آپ کی سواری کی بو سے مجھ کو تکلیف ہو رہی ہے ۔ یہ اس کو سن کر ایک انصاری کو غصہ آ گیا۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبو دار ہے :
واللہ لحمار رسول الله صلى الله عليه وسلم اطيب ریحاً منك ، مسند احمد، جلد ۳) صحابی کے اس جملہ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعی وہ گدھے میں ایسی خوشبو پارہے تھے جو انسانی جسم سے زیادہ بہتر تھی۔ یہ صرف جواب کا ایک انداز تھا۔ عبداللہ بن ابی نے خوشبو اور بدبو کی زبان میں اپنی بات کہی تھی، صحابی نے بھی اسی زبان میں اس کا جواب دیا۔ یہ دراصل جوابی اسلوب میں یہ بتانا تھا کہ تم جانور سے نفرت کر رہے ہو۔ حالانکہ تم منافقت میں مبتلا ہو، اور منافقت خدا کے نزدیک جانور سے بھی زیادہ بد تر چیز ہے۔
تغلق خاندان کے ایک بادشاہ نے ایک عالم دین کو بلایا اور اس سے کسی مسئلہ پر گفتگو کی ۔ عالم کا جواب سلطان کی مرضی کے خلاف تھا۔ سلطان نے بگڑ کر کہا : کیا تم میری تلوار سے نہیں ڈرتے اما تخاف سیفی)، عالم نے کہا: ہاں، اور اسی لئے میں اپنی پگڑی کو اپنا کفن سمجھتا ہوں (نعم ولذا احسب عمامتی کفنی ، نزهة الخواطر)
عالم کا یہ جملہ بھی حقیقتاً ایک اسلوب ادا ہے۔ ان کے سر پر پگڑی تھی ۔ اس لئے انھوں نے پگڑی کے اسلوب میں جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ واقعہ وہ پگڑی کو اپنا کفن سمجھ کر پہنتے تھے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues