صحابی کی توبہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱
صحابی کی توبہ
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھوتا ہے تو وہ فوراً چو نک پڑتے ہیں، پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے (الاعراف ۲۰۲۔ - ۲۰۱) اللہ کا ڈر کس طرح آدمی کو برائی کے وقت چونکا دیتا ہے، اس کی ایک مثال حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر کا واقعہ ہے۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ تھا جو مدینہ کے قریب آباد تھا۔ غزوہ احزاب کے موقع پر معاہدہ کے خلاف بنو قریظہ نے غداری کی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف فوج بھیجی۔ تقریباً ایک مہینہ تک ان کا محاصرہ جاری رہا۔ اس کے بعد بنو قریظہ کی درخواست پر حضرت سعد بن معاذ کو ان کے معاملہ کا حکم بنایا گیا کہ وہ جو فیصلہ کریں فریقین اس کو منظور کر لیں۔
اس دوران میں بنو قریظہ نے حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری کو بلایا۔ زمانہ جاہلیت میں ابو لبابہ اور بنو قریظہ کے درمیان اچھے تعلقات تھے اور ابھی تک ان سے ان کے مالی معاملات باقی تھے۔ بنو قریظہ کو امید تھی کہ وہ ان کو صحیح مشورہ دیں گے۔ حضرت ابو لبابہ جب بنو قریظہ کے یہاں پہنچے تو بنو قریظہ کے مرد اور عورت اور بچے سب ان کے گرد جمع ہو گئے ۔ ان میں بہت سے رونے لگے۔
بنو قریظہ نے حضرت ابو لبابہ سے پوچھا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ کیا ہم رسول اللہ کے حکم کو منظور کر لیں اور اس کے فیصلہ پر راضی ہو جائیں۔ یہ بہت جذباتی موقع تھا۔ حضرت ابو لبابہ کو معلوم تھا کہ بنو قریظہ کے لئے قتل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ تورات میں غدر کی سزا یہی ہے۔ تاہم ان کی زبان پر یہ الفاظ نہ آسکے۔ انھوں نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی حلق پر انگلیاں پھیرتے ہوئے بتایا کہ حکم کو ماننا اپنے آپ کو ذبح کرانا ہے (اشار بید کا الى حلقہ انہ الذبح ، سيرة ابن كثير)
بنو قریظہ سے تعلق کی بنا پر حضرت ابو لبابہ سے یہ عمل ہو گیا۔ مگر اس کے فوراً بعد ان کا جو حال ہوا وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھا :
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues