صحابی کی توبہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲
قال ابولبابۃ فو اللہ مازالت قدمای من خدا کی قسم میرے دونوں پاؤں ابھی اپنی جگہ سے ہٹے مکانہما حتی عرفت انی قد خنت اللہ ورسولہ بھی نہ تھے کہ میں نے جان لیا کہ میں نے اللہ اور اُس کے (سیرۃ ابن کثیر) رسول کی خیانت کی ہے۔
حضرت ابو لبابہ احساس جرم لئے ہوئے بنو قریظہ کے یہاں سے لوٹے ۔ چنانچہ وہ اپنے گھر نہیں گئے بلکہ مسجد نبوی پہنچے۔ وہاں انھوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ لیا۔ انھوں نے عہد کیا کہ میں نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ کچھ پیوں گا ۔ یہاں تک کہ میری موت آجائے یا اللہ میری توبہ قبول کرلے۔ اسی حال میں ایک ہفتہ پڑے رہے۔ مسلسل فاقہ کی وجہ سے غشی طاری ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : ابو لبابہ اگر سیدھے میرے پاس آجاتے تو میں ان کی بخشش کے لئے دعا کرتا۔ مگر جب وہ ایسا کر گزرے ہیں تو میں اپنے ہاتھ سے ان کو نہ کھولوں گا ، جب تک کہ اللہ کی طرف سے حکم نہ آجائے۔ بالآخر اللہ کی طرف سے توبہ نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھول کر انھیں آزاد کیا۔
غلطی سچے مومن سے بھی ہوتی ہے اور منافق سے بھی۔ نہ صرف چھوٹی غلطیاں بلکہ بڑی غلطیاں بھی دونوں سے ہوسکتی ہیں۔ تاہم دونوں کی غلطیوں میں ایک فرق ہے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بشری تقاضے کی بنا پر اس سے غلطی تو ہو جاتی ہے۔ مگر جلد ہی بعد وہ چونک اٹھتا ہے۔ اس کا احتساب خویش کا جذبہ اس کو اپنی غلطی پر متنبہ کر دیتا ہے ، اس وقت نہایت شدت کے ساتھ اس کے اوپر برعکس جذبہ طاری ہوتا ہے۔ غلطی کرتے وقت اگر بظاہر وہ اطاعت خداوندی سے باہر نکل گیا تھا تو اب دگنا شدت کے ساتھ وہ اطاعت خداوندی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ روتا ہے ، وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے ، وہ بے تابانہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی طرح وہ اپنی پچھلی غلطی کی تلافی کرے اور آئندہ ایسی غلطی سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے۔ اس کے برعکس منافق کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ غفلت کے ساتھ غلطی کرتا ہے اور غلطی کرنے کے بعد بھی بدستور غفلت میں پڑا رہتا ہے۔ اپنی غلطی کے احساس سے اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔ اس پر شرمندگی اور تلافی کا کوئی طوفان نہیں گزرتا۔ وہ اپنی غلطی کے صرف دنیوی پہلوؤں پر نظر رکھتا ہے نہ کہ ان پہلوؤں پر جو آخرت میں اس کے سامنے ظاہر ہوں گے۔
مومن کی غلطی اس کو خدا سے اور قریب کر دیتی ہے اور منافق کی غلطی صرف اس کو خدا سے دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues