عالی ظرفی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
عالی ظرفی
مظفر حلیم (متوفی ۹۳۳ھ) گجرات کا حاکم تھا اور محمود خلجی مانڈو (احمد آباد) کا۔ دونوں ہم زمانہ تھے۔ پاس پاس ہونے کی وجہ سے دونوں میں باہم لڑائیاں بھی ہوتی رہتی تھیں۔ محمود خلجی اکثر گجرات پر حملہ کرتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس "خوبصورت اور سرسبز ملک کو اپنی سلطنت میں شامل کرلے۔ تاہم اسے اپنے ارادہ میں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس درمیان میں ایک واقعہ پیش آیا جو بظاہر مظفر حلیم کے لئے بہت خوش کن تھا۔ وہ یہ کہ اس کے حریف محمود خلجی کے ووزیر منڈلی رائے نے موقع پا کر بغاوت کر دی۔ اس کی بغاو ت کامیاب رہی، اس نے سلطان کو تخت سے بے دخل کر دیا اور خود ملک پر قابض ہو گیا۔ تاہم سلطان محمود خلجی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔
اب اس کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا کرے۔ اس کی نظر میں صرف ایک ہی شخص تھا جو اس نازک وقت میں اس کی مدد کر سکتا تھا اور یہ وہی سلطان مظفر حلیم تھا جس کے اوپر وہ اپنے اقتدار کے زمانہ میں یار بار حملے کر چکا تھا۔ سلطان محمود خلجی کو معلوم تھا کہ سلطان مظفر حلیم اگر چہ اس کا حریف ہے مگر وہ ایک بہادر اور شریف انسان ہے۔ اور شریف اور بہادر انسان کی یہ صفت ہے کہ وہ مدد مانگنے والے کی مدد کرتا ہے، خواہ وہ اس کا حریف اور دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
سلطان محمود خلجی نے کئی دن کے حیص بیص کے بعد بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ وہ سلطان مظفر حلیم کے پاس جائے گا اور اس سے مدد طلب کرے گا۔ وہ جرأت کر کے اس کے پاس پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اس کے باغی وزیر کے خلاف اس کی مدد کرے۔
سلطان مظفر حلیم کو موقع تھا کہ وہ اپنے حریف کو ذلیل کرے۔ وہ طعن تشنیع کر کے اس کے بارے میں اپنے سینہ کو ٹھنڈا کرے، مگر اس نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کی۔ وہ فوراً اپنے حریف سلطان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہو گیا سلطان مظفر حلیم نے حکم دیا کہ اس کی فوج مانڈو کی طرف کوچ کرنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ اس نے محمود خلجی کو لیا اور خود اپنی فوج کے ساتھ مانڈو کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر زیر منڈلی رائے کی فوج سے زبردست مقابلہ ہوا۔ بالآخر منڈلی رائے کی فوج نے ہتھیار ڈال دئے اور گجرات دوبارہ فتح ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues