Al-Risala · March 1983 · page 19

آنے والا دن

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹

آنے والا دن

موجودہ دنیا میں جب کوئی آدمی خدا کو مانتا ہے تو وہ دلیل کی بنیاد پر خدا کو مانتا ہے۔ آخرت میں، جو لوگ خدا کو مانیں گے وہ خدا کے زور و قوت کی بنیاد پر خدا کو مانیں گے۔ گویا موجودہ دنیا میں دلیل خدا کی نمائندہ ہے۔ اس کے برعکس آخرت میں یہ ہو گا کہ خدا خود اپنی ذات کمال کے ساتھ اپنے آپ کو منوانے کے لئے انسان کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ حقیقت میں خدا کو ماننے والا کون ہے اور اس کو نہ ماننے والا کون۔ خدا کو ماننے والا وہ ہے جو معقولیت کے وزن کو مانے۔ جو حق کے آگے اس وقت جھک جائے جب کہ اس کے ساتھ لفظی دلیل کے سوا کوئی اور زور شامل نہ ہو۔ اس کے برعکس جس کا یہ حال ہو کہ کوئی بات محض اپنی سچائی کی بنا پر اس کو متاثر نہ کر سکے، وہ کسی سچائی کو صرف اس وقت مانے جب کہ وہ کسی وجہ سے اس کو ماننے کے لئے مجبور ہو گیا ہو۔ جس سچائی کے ساتھ ایسا کوئی دباؤ موجود نہ ہو وہ اس کو ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوتا ہو، ایسا آدمی خدا کو ماننے والا نہیں ہے۔ اس کا معبود ظاہری طاقت ہے نہ کہ غیبی خدا۔

خدا اپنے ماننے کا ثبوت غیب کی سطح پر لے رہا ہے اور لوگ اس کو ماننے کا ثبوت شہود کی سطح پر دینا چاہتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے مگر آدمی صرف طاقت کے آگے جھکنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی محض خدا کے خوف کی بنا پر انصاف کے طریقہ کو اپنا لے۔ مگر انسان صرف اس وقت انصاف کرنے پر راضی ہوتا ہے جب کہ وہ اس کے لئے مجبور ہو گیا ہو۔ جہاں مجبوری نہ ہو وہاں وہ فوراً سرکشی کرنے لگتا ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو چھپالے مگر قیامت ہر آدمی کو برہنہ کر دے گی۔ اس وقت بہت سے خدا پرست غیر خدا پرستوں کی صف میں نظر آئیں گے، بہت سے حق کو ماننے والے حق کو نہ ماننے کے مجرم قرار دئے جائیں گے۔ بہت سے لوگ جو جنت کا الائمنٹ لئے ہوئے ہیں وہ اپنے کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں گے۔

انسان کتنا زیادہ بے ڈر بنا ہوا ہے، حالانکہ کتنا زیادہ ڈر کا لمحہ اس کے لئے آنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page