Al-Risala · March 1983 · page 20

آنے والا دن

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰

ایک تاثر

انسان زمین کے اوپر ایک تضاد ہے ۔ وہ حقیقتوں کی دنیا میں حقیقتوں کو نظر انداز کر کے رہنا چاہتا ہے۔ انسان کو ایک نہایت حسین اور مکمل دنیا دی گئی ہے۔ مگر وہ اس طرح یہاں رہتا ہے جیسے وہ اپنی دنیا کی تردید کر رہا ہو۔

انسان کھلے ہوئے آسمان کے نیچے بند ذہن کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔ لطیف ہواؤں کے درمیان اس کو صرف کثیف اخلاق کے ساتھ رہنا پسند ہے۔ اونچے پہاڑوں کے پڑوس میں وہ چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ سر سبز و شاداب درختوں کے ماحول میں وہ ٹھنڈھ بنا ہوا نظر آتا ہے۔ دریاؤں اور چشموں کی روانی کے درمیان وہ جمود و تعطل کی تصویر بنا ہوا ہے۔

اس صورت حال کی سب سے زیادہ عبرت ناک مثال وہ لوگ ہیں جن کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۲ کو میں جموں اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ دو مسلمان میرے پاس آئے جو غالباً کشمیری تھے۔ ایک نے کہا ” مولانا صاحب ، مجھے ایک مسئلہ بتائیے ۔ لبنان میں فلسطینی بھائیوں کا خون ہو رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کے خون کے صدقے کے طور پر ایک بکرا ذبح کروں “ دوسرے نے کہا ” میں فلسطین جانا چاہتا ہوں، مجھے بتائیے کہ فلسطین جانے کا راستہ کیا ہے۔ دونوں مجھ سے مشورہ چاہتے تھے ، مگر میں ان کو کوئی مشورہ نہ دے سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے دماغ میں الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے اور اب میرے پاس ان سے کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی شاید سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خیالی پرواز میں سب سے آگے ہیں اور حقیقی عمل میں سب سے پیچھے ۔ ان کو سیاست میں صرف نعرہ پسند ہے ، ادب میں شاعری اور دین میں رومانیت۔ مسلمانوں نے نہ اپنی مقدس کتاب سے کچھ سیکھا اور نہ دنیا کے تجربات سے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اصاغر و اکابر کی تمام فوج خوش فکری کے خول میں بند ہے۔ اپنے فکری خول سے باہر کی حقیقتوں کی اسے خبر ہی نہیں ۔

آخر ایسے لوگوں کو کیا مشورہ دیا جائے جو فلسطین جیسے سنگین مسئلہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس کے لئے ایک بکرا ذبح کر دیں۔ یا اپنی انتہائی بے خبری اور بے مائیگی کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ کسی طرح فلسطین پہنچ جائیں تو وہاں لڑ کر وہ اس کا سارا مسئلہ حل کر دیں گے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page