Al-Risala · January 1983 · page 11

یہ بھی ممکن ہے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱

یہ بھی ممکن ہے

برطانوی فلسفی راشڈل ہیسٹنگز (م ۱۹۲۔ ۵۸ ۱۸) نے لکھا ہے کہ بارھویں صدی عیسوی میں جب ابن رشد کی کتابیں یورپ میں پھیلیں تو اس کا فلسفہ عیسائیوں کو اپنے حق میں شدید خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ ۱۲۱۰ء میں پیرس یونیورسٹی کونسل نے ایک متفقہ فیصلہ کیا اور اس کے مطابق ارسطو کی طبعی تاریخ اور اس پر لکھی ہوئی ابن رشد کی شرحوں کو تعلیم و تدریس کے لئے ممنوع قرار دے دیا گیا۔ مگر یہ فیصلہ بہت دیر تک باقی نہ رہ سکا۔ کچھ عرصہ بعد یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو احساس ہوا کہ انھوں نے ایسا کر کے اپنے طلبہ کو علم کے خزانہ سے محروم کر دیا ہے۔ چنانچہ نہ صرف ممنوعہ کتابیں دوبارہ داخل نصاب کی گئیں بلکہ نئے قاعوہ کے مطابق یونیورسٹی کے فارغ طلبہ سے یہ حلف لیا جانے لگا کہ وہ صرف ان چیزوں کو اپنی تعلیم و تدریس میں استعمال کریں گے جو ابن رشد کی شرح کے مطابق ارسطو کے خیالات سے ہم آہنگ ہو :

Rashdall Hastings, Universities, p. 368

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو مخالف بھی کس طرح اس کو ماننے پر مجبور ہوتا ہے۔ حتی کہ اگر کچھ لوگ تعصب یا ضد میں ابتداءً آپ کو نہ مانیں تو اس نہ ماننے کو بھی مستقل نہ سمجھئے۔ اگر فی الواقع آپ کے اندر کوئی قابل قدر چیز ہے تو جلد وہ دن آئے گا جب نہ ماننے والے کو اپنے نہ ماننے پر پچھتاوا ہو اور دہ دوبارہ آپ کے اعتراف پر مجبور ہو جائے۔ ابن رشد دنیا میں موجود نہ تھا کہ وہ اپنا دفاع کرے یا اپنے حق کے حصول کے لئے احتجاج و مطالبہ کی مہم چلائے۔ تاہم اس کا عمل لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ پیرس یونیورسٹی کے ذمہ داروں نے ابن رشد کی تعلیم تو بند کر دی۔ مگر بہت جلد ان کو احساس ہوا کہ ابن رشد کی کتابوں کا بدل ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ ابن رشد خواہ ان کے لئے ایک غیر مطلوب انسان ہو مگر اپنی نسلوں کی تعلیم تو بہرحال ان کے لئے ایک مطلوب چیز تھی۔ بالآخر انھیں محسوس ہوا کہ ابن رشد کو چھوڑنا صرف اس قیمت پر ممکن ہے کہ خود اپنی نسلوں کی تعلیم ناقص رہ جائے۔ وہ ابن رشد کو نظر انداز کر سکتے تھے مگر اپنے آپ کو نظر انداز کرنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے ابن رشد کی کتابوں کو دوبارہ اختیار کر لیا۔ کوئی شخص اگر یہ حیثیت حاصل کرلے کہ وہ دوسروں کی ضرورت بن جائے تو دوسرے اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے، خواہ یہ دوسرے اس کے حریف کیوں نہ ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page