غلط استدلال
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲
غلط استدلال
وکیع بن الجراح (۱۶۴ - ۱۹۷ھ) اپنے زمانہ کے ایک بڑے محدث تھے۔ وہ نہایت متقی انسان تھے چنانچہ خلیفہ ہارون الرشید نے ان کو قاضی کا عہدہ پیش کیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور اپنی تمام عمر حدیث کی جمع و تدوین میں گزار دی۔ وہ اپنے وطن کوفہ سے حج کے ارادہ سے مکہ روانہ ہوئے تھے کہ راستہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔
وکیع بن الجراح کے ایک معاصر نے (تعریفی طور پر) ان کے بارے میں کہا کہ میں نے وکیع کو دیکھا۔ میں نے ان کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں دیکھی۔ وہ حدیثوں کے حافظ تھے (رأیت وکیعاً ما رأیت بیدِهِ كتاباً قط، إنما ھو يحفظ، التهذيب لابن حجر، جلد ۱۱ صفحہ ۱۱۹)
گولڈ زیہر نے اس قول کو لے کر لکھا ہے کہ وکیع نے کتاب اور کاغذ چھوڑ رکھا تھا، وہ صرف زبانی طور پر حدیث سنتے اور سناتے تھے۔ گولڈ زیہر کا مقصد اس سے حدیث کی صحت کو مشکوک ثابت کرنا ہے۔ کیونکہ تحریر کے مقابلہ میں یادداشت بہر حال ایک غیر معتبر ذریعہ ہے۔
مگر گولڈ زیہر کا یہ استدلال اس وقت غلط معلوم ہوتا ہے جب کہ ہم اسی کتاب میں یہ دیکھتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے اپنے شاگردوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا: تمہارے لئے لازم ہے کہ تم وکیع کی کتابوں کو پڑھو (عليكم بمصنفات وكيع، التهذيب لابن حجر، جلد ۱۱، صفحہ ۱۲۴) اگر ان کی کتابیں نہ ہوتیں تو احمد بن حنبل اس طرح کا مشورہ کیوں دیتے ۔ امام وکیع کی کتابوں میں سے چند کتابیں یہ ہیں: کتاب الزہد المصنف التفسیر (الکشف و البیان للثعلبی)
وکیع بن الجراح کے واقعات بتاتے ہیں کہ ان کا حافظہ غیر معمولی طور پر اچھا تھا۔ وہ اگرچہ احادیث کو باقاعدہ لکھتے تھے۔ مگر مجالس میں اکثر حافظہ کی مدد سے احادیث کو بیان کرتے تھے۔ امام وکیع سے متعلق تمام واقعات کو دیکھیے تو مذکورہ قول میں کوئی ہرج نظر نہیں آتا۔ مگر گولڈ زیہر نے بقیہ چیزوں کو چھوڑ کر صرف ایک جز ر کو لے لیا تو وہ اس کے لئے اس بات کی دلیل بن گیا کہ حدیث کا موجودہ ذخیرہ مشتبہ ذخیرہ ہے، اس کی صحت پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues