آنے والا دن
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱
ایک آیت
قرآن کی سورہ نمبر ۲۵ کے آخر میں خدا کی رحمتوں کا ذکر ہے۔ خدا نے زمین کو انتہائی محکم قانون کے تحت گھارکھا ہے جس سے رات دن اور موسم پیدا ہوتے ہیں۔ وہ حیرت انگیز انتظام کے تحت بارش برساتا رہتا ہے وہ زمین پر انسان کے لئے طرح طرح کا رزق پیدا کرتا ہے۔ وہ سمندر کے کھاری پانی کو میٹھا بنا کر ہماری ضروریات پوری کرتا ہے۔ ایک عجیب و غریب حیاتیاتی نظام کے تحت وہ ہم کو اولاد عطا کرتا ہے۔ اس نے زمین و آسمان کی وسیع کائنات کو حیرت انگیز طور پر ہمارے موافق بنارکھا ہے۔ اس قسم کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے:
الرحمن فسئل بہ خبیرا وہ بڑی رحمت والا ہے، اس کی شان (رحمت) کسی (الفرقآن ۵۹)
جاننے والے سے پوچھو۔
قرآن کی یہ آیتیں تو حید اور آخرت کے اثبات میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کائنات میں اتنے کامل طور پر رحمت و قدرت کا نظام قائم ہو اس کے بارے میں یہ گمان کرنا بالکل بے بنیاد ہے کہ اس کا خدا ایک سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ یا اس کا خاتمہ عدل پر نہ ہو گا، اور وہ یوں ہی بے انجام طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس ذیل میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی رحمت و قدرت کے نظام کا حال کسی جاننے والے سے پوچھو۔ یعنی جو شخص کائنات میں غور و مشاہدہ کر رہا ہو، جس نے کائنات کے نظام میں جھانک کر دیکھا ہو اس سے اس کی تفصیلات پوچھو تو وہ بتائے گا کہ یہ کائنات کیسی کائنات ہے۔ اور اس میں انسان کے لئے کیسے کیسے قیمتی انتظامات کئے گئے ہیں۔
اس کا مصداق موجودہ زمانہ میں سائنس داں بھی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ سائنس داں جنہوں نے زمین و آسمان کے نظام کا مطالعہ کیا ہے وہ اس کی حکمت و معنویت کو اس قدر حیران کن انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ان کو سن کر اور پڑھ کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوں اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو جائے (ملاحظہ ہو، مذہب اور جدید چیلنج صفحہ ۸۲-۱۸۰)
واضح ہو کہ اس آیت میں سوال کا تعلق اللہ کی "رحمانیت" کو پوچھنے سے ہے نہ کہ دین حق کی بابت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues