Al-Risala · March 1983 · page 23

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

دین کے نام پر بے دینی

قرآن کی تین سورتوں (الاعراف، طٰهٰ، الشعراء) میں یہ بات کہی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے پیغمبر بنایا۔ اس کے بعد وہ خدا کے حکم کے مطابق شاہ مصر فرعون کے دربار میں گئے۔ انھوں نے فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل کر میرے ساتھ صحرائے سینا میں جانے دے (ارسل معنا بنی اسرائیل) اس کے جواب میں فرعون نے اپنے درباریوں کے سامنے جو تقریر کی اس میں اس نے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمھارے ملک مصر سے نکال دیں (يريد ان يخرجكم من ارضكم) حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو ساتھ لے کر خود ملک مصر سے نکل جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے لازم کے صیغہ کو متعدی کا صیغہ بنا دیا۔ اس نے کہا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون نے اپنی قوم اور اپنے درباریوں کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کے لیے آنجناب کی طرف وہ بات منسوب کر دی جو آپ نے خود نہیں فرمائی تھی ۔

فرعون کا کلمہ واضح طور پر شرارت کا کلمہ تھا۔ یہ ویسا ہی تھا جیسے موجودہ زمانہ کے ظالم حکمراں یہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی شخص سے ناراض ہوں تو وہ اپنی خفیہ پولیس کے ذریعہ اس انکشاف کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ حکمراں کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہا تھا۔ اس طرح وہ اپنے اس عمل کے لیے جواز فراہم کرتے ہیں کہ اس شخص کو بغاوت کا مجرم قرار دے کر ہلاک کر دیں ۔

فرعون شرک اور کفر کا علم بردار تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلام کے ایسے علم بردار پیدا ہوئے ہیں جو قرآن سے فرعون کے الفاظ (يريد ان يخرجكم من ارضكم) لے لیتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی دعوت عام معنوں میں صرف ایک دینی دعوت نہ تھی بلکہ وہ سیاسی انقلاب برپا کرنے کا منصوبہ تھا۔ حضرت موسیٰ اس لیے اٹھے تھے کہ فرعون کو اقتدار کے تخت سے بے دخل کر کے اس پر قبضہ کریں اور ملک میں حکومت الہیہ کا نظام قائم کریں۔ وہ کلمہ موسیٰ کے بجائے کلمہ فرعون سے پیغمبر کا مشن برآمد کر رہے ہیں۔ فرعون کا کلمہ صرف اس قابل ہے کہ اس کو شرارت کے خانہ میں جگہ ملے۔ مگر جو لوگ فرعون کے کلمہ سے پیغمبر کا مشن برآمد کر رہے ہیں ان کے قول کو آخر کس خانہ میں رکھا جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues

Printed page