دین کے نام پر بے دینی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمُ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِايَاتِ اللَّهِ فَعَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ ﴿۷۱﴾ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَمَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿۷۲﴾ فَكَذَّبُوهُ فنجیناہ و من مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَهُمْ خَلَئِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا باٰیاتنا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ ﴿۷۳﴾ اور ان کو نوح کا حال سناؤ۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیتوں سے نصیحت کرنا تم پر گراں ہو گیا ہے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ تم اپنا متفقہ فیصلہ کر لو اور اپنے شریکوں کو بھی ساتھ لے لو، تم کو اپنے فیصلہ میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ پھر تم لوگ میرے ساتھ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گز رو اور مجھ کو مہلت نہ دو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی ہے۔ میری مزدوری تو اللہ کے ذمہ ہے۔ اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ پھرا نھوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے نوح کو اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ان کو جانشین بنایا۔ اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ دیکھو کہ کیا انجام ہوا ان کا جن کو ڈرایا گیا تھا ﴿۷۳ - ۷۱﴾ حضرت نوح قدیم ترین زمانہ کے رسول ہیں۔ وہ جب تک خاموش تھے، قوم ان کی عزت کرتی رہی، مگر جب آپ حق کے داعی بن کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بتلانے لگے کہ ایسا کردار و ویسا نہ کرو تو وہ قوم کی نظر میں ایک ناپسندیدہ شخص بن گئے۔ یہاں تک کہ قوم نے اعلان کر دیا کہ تم اپنی تبلیغ و نصیحت سے باز آؤ ورنہ ہم تم کو اپنی زمین میں نہیں رہنے دیں گے۔ حضرت نوح نے کہا کہ تم لوگ میرے معاملے کو ایک انسان کا معاملہ سمجھتے ہو، اس لئے ایسا کہہ رہے ہو۔ مگر یہ معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مجھ سے لڑنے کے لئے تم کو خدا سے لڑنا پڑے گا۔ تم کو اگر یقین نہ ہو تو تم اس طرح تجربہ کر سکتے ہو کہ اپنے ساتھیوں اور شریکوں کو ملا کر میرے خلاف کوئی متفقہ منصوبہ بناؤ اور اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس کی تعمیل کرگزرو۔ تم دیکھو گے میرے مقابلہ میں تمھارا ہر منصوبہ ناکام ہے۔ موجودہ دنیا میں داعی حق کی صداقت کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ کوئی بھی اس کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
جو شخص خدا کی طرف سے حق کی دعوت لے کر اٹھے وہ ہمیشہ نشانی (دلیل) کے زور پر اٹھتا ہے۔ دلیل چونکہ ایک ذہنی چیز ہے اس لئے ظاہر پسند انسان اس کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتا۔ وہ ذہنی طور پر لاجواب ہونے کے باوجود اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues