دین کے نام پر بے دینی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵
آگے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے۔
حق کے داعی کو جن آداب دعوت کا لازمی طور پر لحاظ کرنا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو سے کسی بھی قسم کا معاشی اور مادی مطالبہ نہ کرے۔ خواہ اس یک طرفہ دست برداری کی وجہ سے اس کو کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے۔ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کہ دونوں کے درمیان آخر وقت تک داعی اور مدعو کا تعلق باقی رہے، وہ کسی بھی حال میں قومی حریف اور مادی رقیب کا تعلق نہ بننے پائے۔
حضرت نوح نے جب اتمام حجت کی حد تک حق کا پیغام پہنچا دیا، پھر بھی ان کی قوم سرکشی پر قائم رہی تو سرکشوں کو سیلاب میں غرق کر کے زمین ان سے خالی کرا لی گئی اور مومنین نوح کو موقع دیا گیا کہ وہ زمین کے وارث بن کر اس پر آباد ہوں۔ اسی کو قرآن کی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے۔ سیلاب سے پہلے قوم نوح زمین کی خلیفہ بنی ہوئی تھی، سیلاب کے بعد مومنین نوح زمین کے خلیفہ قرار پائے۔
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۚ كَذَلِكَ نَطْبَعُ عَلَى قُلُوبِ الْمُعْتَدِينَ ﴿۷۴﴾ پھر ہم نے نوح کے بعد کتنے رسول بھیجے۔ وہ ان کے پاس کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے، مگر وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ۷۴ ، اس آیت میں "حد سے گزر جانے والا" ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک بار اگر وہ حق کا انکار کر دیں تو اس کے بعد وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر اس کو مسلسل نظر انداز کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں ان کا علم دین اور ان کا بر سر حق ہونا مشتبہ نہ ہونے پائے۔
جولوگ اس قسم کا رویہ اختیار کریں ان کو دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ یعنی خدا کے قانون کے تحت ان کی نفسیات دھیرے دھیرے ایسی بن جاتی ہیں کہ بالآخر حق کے معاملہ میں ان کا شدت احساس باقی نہیں رہتا۔ ابتداءً ان کے اندر جو تھوڑی سی حساسیت زندہ تھی وہ بھی بالآخر مردہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ حق اور ناحق کے معاملہ میں تڑپیں اور نا حق کو چھوڑ کر حق کو قبول کر لیں۔ حضرت نوح اور ان کے بعد آنے والے بیشتر رسولوں کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
اللہ کی طرف سے جب بھی کوئی داعی حق آتا ہے تو وہ اس حال میں آتا ہے کہ اس کے گرد کسی قسم کی ظاہری عظمت نہیں ہوتی۔ اس کے پاس جو واحد چیز ہوتی ہے وہ صرف دلیل ہے۔ جو لوگ دلیل کی زبان میں حق کو مانیں وہی داعی حق کو مانتے ہیں۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ دلیل کی زبان انھیں متاثر نہ کر سکے وہ داعی حق کو پہچاننے سے بھی محروم رہتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے سے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues