تاریخ کافتنہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
تاریخ کافتنہ
سأل أبو زرعة شيخه البلقيني قائلاً: ما ابوزرعہ نے اپنے استاد بلقینی سے پوچھا کہ شیخ تقی الدین تقصير الشيخ تقي الدين السبكي عن الاجتهاد سبکی اجتہاد کیوں نہیں کرتے جب کہ ان کے اندر اس وقد استكمل آلته۔ فسكت البلقيني۔ فقال کی شرائط موجود ہیں۔ بلقینی چپ رہے۔ ابوزرعہ أبو زرعة: فما عندی ان الامتناع عن ذلك نے کہا کہ ان کے اجتہاد سے رکنے کی وجہ میرے الا للوظائف التي قدرت للفقهار على المذهب نزدیک تو صرف وہ وظائف ہیں جو مذاہب اربعہ الاربعة وان من خرج عن ذلك لم يبله شئ کے فقہاء کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جو ان مذاہب من ذلك وحرم ولاية القضاء وامتنع الناس سے نکلے گا وہ ان وظائف میں سے کچھ نہیں پاسکتا، عن فتائه ونسبت اليه البدعة فابتسم وہ قاضی کے عہدہ پر باقی نہ رہے گا، لوگ اس البلقيني ووافقه على ذلك (السيد سابق، فقہ السنة، کے فتوے کو قبول نہیں کریں گے اور اس کو بدعتی المجلد الاول، صفحہ ۱۴-۱۳) کہنے لگیں گے۔ یہ سن کر بلقینی ہنسے اور ان کی رائے سے اتفاق کیا۔
دین کے نام پر جو چیز شروع کی جائے، اگر وہ ایک مدت تک باقی رہے تو بالآخر وہ مقدس سمجھی جانے لگتی ہے، یہاں تک کہ وہ نوبت آتی ہے کہ اس کے ساتھ دنیوی قدر پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس سے منسوب ہو کر آدمی کو ماحول میں عزت ملتی ہے، اس سے وابستگی سے آدمی کے لئے عہدوں اور مفادات کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس کے نام پر ”آج“ کے ایک آدمی کو وہ حیثیت حاصل ہو جاتی ہے جو ”کل“ کے ایک آدمی کو تاریخی روایات کے نتیجہ میں حاصل ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں لوگ اس حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس کے ساتھ تاریخی شخصیت کا نام شامل نہ ہو۔ وہ ”تاریخ“ کے پرستار بن کر رہ جاتے ہیں، حق کے پرستار کی حیثیت سے ان کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔
لوگ ہمیشہ زندہ شخصیت کو نظر انداز کرتے ہیں اور تاریخی طور پر مسلمہ شخصیت کے ساتھ خوب تعلق ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمہ شخصیتوں کے ساتھ مادی مفادات وابستہ ہو جاتے ہیں، جب کہ زندہ شخصیت کے ساتھ اس قسم کا کوئی پہلو وابستہ نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues