یہ سرکشی ہے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۳، صفحہ ۳۱
یہ سرکشی ہے
انصاف مانگا نہیں جاتا بلکہ لیا جاتا ہے ـــ موجودہ دنیا کے بارے میں کسی کا یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ یہاں وہی شخص اپنا حق پاتا ہے جس کے پاس بازوؤں کی طاقت ہو۔ جس کے پاس صرف لفظی دلائل ہوں اس کے لئے اس دنیا میں کچھ نہیں۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ صرف اس وقت انصاف دیتا ہے جب کہ اس کو ڈر ہو کہ انصاف نہ دینے سے اس کا اپنا معاملہ بگڑ جائے گا۔ اور اگر اس کا کچھ بگڑنے والا نہ ہو تو وہ انصاف دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔
کسی سے آپ کا کوئی معاملہ پڑے اور آپ اتفاق سے کمزور پوزیشن میں ہوں اور دوسرا فریق طاقتور پوزیشن میں، تو حیرت انگیز طور پر آپ دیکھیں گے کہ آپ کا فریق آپ کے نقطہ نظر کو سمجھنے سے عاجز ہو رہا ہے۔ وہی آدمی جو دوسرے معاملات میں نہایت ذہین اور ہوشیار دکھائی دیتا تھا، آپ کے معاملہ میں ایسا بن جائے گا جیسے وہ اس کے پہلوؤں کو سمجھتا ہی نہیں۔ وہ آپ کے دلائل کو سنے گا مگر ان کو کوئی وزن نہ دے گا۔ آپ کے بامعنٰی الفاظ اس کی نظر میں بالکل بے معنی ہو جائیں گے۔
آج لوگوں کا حال یہ ہے کہ معقولیت کی ان کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ جہاں کوئی ڈر ہو یا کوئی فائدہ کا پہلو ہو تو ان کی ساری عقل فوراً جاگ اٹھتی ہے۔ وہ پوری ہوشیاری کے ساتھ وہاں متحرک ہو جاتے۔ ہیں مگر جہاں صرف دلیل اور معقولیت کا زور ہو، اس کے سوا کوئی اور چیز انہیں مجبور کرنے والی موجود نہ ہو وہاں وہ ایسے سے حس بن جاتے ہیں جیسے کہ نہ ان کے سر میں کوئی بات سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ان کے سینہ میں کسی چیز پر تڑپنے والا دل۔
سامنے کا نفع نقصان لوگوں کو دھوکہ میں ڈالے ہوئے ہے۔ آدمی بھول گیا ہے کہ معقولیت کو وزن نہ دینا خدا کو وزن نہ دینا ہے۔ ایسے لوگ قیامت میں اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ انہوں نے خدا کو بے حقیقت سمجھا، انہوں نے مالک کائنات کو بے وزن جانا۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ یہ جانے کہ کون اللہ کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے بغیر دیکھے (الاحزاب) اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں خدا کی سچائی دلیل کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ آخرت میں خدا کی سچائی اپنے بے نقاب روپ میں ظاہر ہوگی۔ جو لوگ ایک سچی دلیل کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا اس وقت کیا حال ہوگا جب وہ جانیں گے کہ جس دلیل کو انھوں نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا وہ دراصل خدا تھا جو اپنے غیبی روپ میں ان کے سامنے آیا تھا مگر اس کو انھوں نے نہیں مانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1983 All issues