Al-Risala · May 1983 · page 9

پانے سے پہلے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۹

پانے سے پہلے

انگریزی کا مقولہ ہے کہ ہم دیتے ہیں تب ہی ہم پاتے ہیں، In giving that we receive دنیا کے بنانے والے نے دنیا کا یہ قانون مقرر کیا ہے کہ یہاں جو دیتا ہے وہی پاتا ہے۔ جس کے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو اس کے لئے پانا بھی اس دنیا میں مقدر نہیں۔ ہمارے چاروں طرف کی دنیا میں خدا نے اس اصول کو انتہائی کامل شکل میں قائم کر رکھا ہے۔ یہاں ہر چیز کو اگر چہ اپنے وجود کو قائم کرنے کے لئے دوسروں سے کچھ لینا پڑتا ہے، مگر ہر چیز کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا لیتی ہے اس سے زیادہ وہ دینے کی کوشش کرتی ہے۔

درخت کو لیجئے ۔ درخت زمین سے پانی اور معدنیات لیتا ہے وہ ہوا سے نائٹروجن لیتا ہے۔ وہ سورج سے حرارت لیتا ہے اور اس طرح پوری کائنات سے اپنی غذا لیتے ہوئے اپنے وجود کو کمال کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔ مگر اس کے بعد وہ کیا کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کا پورا وجود دوسروں کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو سایہ دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو لکڑی دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو پھول اور پھل دیتا ہے۔ وہ ساری عمر اسی طرح اپنے آپ کو دوسروں کے لئے وقف رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔

یہی حال کائنات کی ہر چیز کا ہے۔ ہر چیز دوسروں کو دینے اور دوسروں کو نفع پہنچانے میں مصروف ہے۔ سورج، دریا، پہاڑ، ہوا ، ہر چیز دوسروں کو نفع پہنچانے میں لگی ہوئی ہے۔ کائنات کا دین نفع بخشی ہے نہ کہ حقوق طلبی۔

اس دنیا میں صرف ایک ہی مخلوق ہے جو دینے کے بجائے لینا چاہتی ہے، اور وہ انسان ہے۔ انسان یک طرفہ طور پر دوسروں کو لوٹتا ہے ، وہ دوسروں کو دئے بغیر دوسروں سے لینا چاہتا ہے۔ وہ نفع بخش بنے بغیر نفع خور بننا چاہتا ہے۔

انسان کی یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف ہے، وہ کائنات کے عام مزاج سے ہٹی ہوئی ہے۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے موجودہ دنیا میں کامیابی مقدر نہیں۔ موجودہ دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کو مل سکتی ہے جو وسیع تر کائنات سے اپنے کو ہم آہنگ کریں۔ جو دینے والی دنیا میں خود بھی دینے والے بن کر رہیں، نہ کہ دینے والی دنیا میں صرف لینے والے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page