Al-Risala · May 1983 · page 10

مومن کی فراست

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰

مومن کی فراست

کان رسول الله صلى الله عليه وسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم نے بدر کی لڑائی قدام ابوعزة الشاعر يوم بدر - فمن عليه میں ابوعزه شاعر کو قید کیا تھا۔ پھر آپ نے اس پر واطلقه - فلما كان يوم احد اسرہ ثانية - احسان کیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ پھر جب احد کی فقال من علی - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لڑائی ہوئی تو اس کو دوبارہ قید کیا ۔ ابو عزہ نے کہا وسلم لا يلدغ المومن من جحر مرتين مجھ پر احسان کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔

یعنی تم نے دوبارہ ہمارے خلاف جنگ میں آکر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ اگر تم احسان کئے جانے کے قابل ہوتے تو پہلے احسان کے بعد تم دوبارہ ہمارے خلاف لڑنے نہ آتے۔ اس تکرار کے بعد تم معافی کے قابل نہیں۔

مومن میں یہ ہوشیاری کہاں سے آتی ہے کہ اس کو کوئی دھوکا نہ دے سکے ۔ اس کا جواب دوسری حدیث میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا: مومن کی فراست سے بچو۔ کیونکہ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے (اتقوا فراسة المومن فانه ينظر بنور الله)

عام انسان اپنی ذات کی سطح پر زندگی گزارتا ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو اپنی ذات کی سطح سے اٹھائے اور خدا کی سطح پر زندگی گزارنے لگے۔ ایسا آدمی ان نفسیاتی پردوں سے باہر آجاتا ہے، جو لوگوں کے لئے صحیح طور پر دیکھنے اور صحیح طور پر رائے قائم کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے آدمی کی سوچ خدائی سوچ بن جاتی ہے ۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ بے آمیز ذہن کے ساتھ چیزوں پر غور کرسکے۔

عام آدمی چیزوں کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے اور مومن خدا کی نظر سے۔ اور جو شخص چیزوں کو خدا کی نظر سے دیکھنے لگے ، وہ ہر معاملہ میں درست فیصلے لگاو ر درست فیصلہ ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page