Al-Risala · January 1983 · page 22

تلوار سے زیادہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۲

تذکیر القرآن

وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَأْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا إِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِيْ کتاب مُّبِيْنٍ ﴿٦١﴾ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٦٢﴾ الَّذِينَ آمَنُوا وَ كَانُوا يَتَّقُونَ ﴿٦٣﴾ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿٦٤﴾ وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٦٥﴾ اور تم جس حال میں بھی ہو اور قرآن میں سے جو حصہ بھی سنا رہے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو، ہم تمھارے اوپر گواہ رہتے ہیں جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو۔ اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔ سن لو، اللہ کے دوستوں کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے، ان کے لئے خوش خبری ہے دینی کی زندگی میں اور آخرت میں، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور تم کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔ زور سب اللہ ہی کے لئے ہے، وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۶۱ - ۶۵ دعوت اس دنیا کے تمام کاموں میں مشکل ترین کام ہے۔ داعی اپنے پورے وجود کو دعوتی عمل میں شامل کرتا ہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ کسی پیغام کا داعی بن سکے۔ اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ وہ ہے جو مخاطبین کی طرف سے پیش آتا ہے۔

داعی جب خدا کے دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرتا ہے اور اس کو کھلے دلائل کی زبان میں مبرہن کر دیتا ہے تو وہ تمام لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو خود ساختہ دین کو خدا کا دین بتا کر دیندار بنے ہوئے ہوں یا دنیا پیشوائی کا مقام حاصل کئے ہوئے ہوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد پروپیگنڈا، سازشیں، حتی کہ جارحانہ کارروائیاں، ہر چیز کو وہ اپنے لئے جائز کر لیتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ملی ہوئی آزادی انھیں موقع دیتی ہے اور وہ داعی کے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال یہاں تک پہنچتی ہے کہ دلیل کی طاقت تمام تر ایک طرف ہو جاتی ہے اور مادیات کی طاقت تمام تر دوسری طرف۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page