Al-Risala · May 1983 · page 20

زندگی کا معرکہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰

اس قسم کے کاموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے مسجد والوں کے دل جیت لئے۔ لوگ اس سے اتنا خوش ہوئے کہ اپنے آپ اس کی تنخواہ بڑھادی۔ اس کو کثرت سے تحفے ملنے لگے ۔ ہر آدمی اس کو عزت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ لوگوں کی خواہش ہوئی کہ اس کے لئے ایسا انتظام کریں کہ وہ یہاں مستقل رہنے لگے۔ یہاں سے چھوڑ کر کہیں اور نہ جائے۔ چنانچہ اس کے لئے مسجد سے متصل ایک رہائشی کوارٹر بنایا گیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کو وہاں لائے اور دل جمی کے ساتھ وہاں رہے۔ زندگی کا یہی راز ہے جس کو شیکسپیئر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔ تمہیں کیا چاہئے، جو کچھ بھی تمہیں چاہئے اس کو مسکراہٹ کی طاقت سے حاصل کرو نہ کہ تلوار کی طاقت سے ۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے محض وقتی جذبات کے تحت کام کرتے ہیں۔ اگر وہ سوچ سمجھ کر کام کریں تو انہیں معلوم ہو کہ وہ جو کچھ "تلوار" کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کو وہ "مسکراہٹ" کے ذریعہ زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ آدمی کو بیک وقت دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ پیسہ اور اخلاق۔ پیسہ آپ کو آپ کی ضرورتیں دیتا ہے اور اخلاق آپ کو لوگوں کے درمیان اچھی طرح رہنے کے قابل بناتا ہے۔ آدمی کو اگر اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے پیسہ چاہئے تو اسی کے ساتھ اس کو لوگوں سے اچھا نباہ کرنے کے لئے اچھا اخلاق بھی چاہئے۔ مگر اکثر آدمی پہلی چیز حاصل کرنے کے لئے محنت کرتے ہیں اور دوسری چیز حاصل کرنا بھول جاتے ہیں۔ چین کی ایک کہاوت میں ان دونوں چیزوں کی اہمیت کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خریدو اور دوسرے سے پھول۔ روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تم کو جینے کا فن سکھائے گا۔ "

زندگی کا معرکہ

" سب کچھ لٹ جانے پر بھی مستقبل باقی رہتا ہے " بودی کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بیان کر رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے امکانات لٹ گئے ہوں تو وہ یقینی طور پر ماضی کے امکانات ہوں گے نہ کہ مستقبل کے امکانات۔ آدمی خواہ کتناہی زیادہ برباد ہو جائے ۔ بہر حال اس کی بربادی اس کے ماضی کی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا مستقبل پھر بھی پوری طرح اس کے لئے موجود ہوتاہے۔ وہ مستقبل کی طرف اپنے سفر کا آغاز کر کے دوبارہ اپنے لئے ایک نئی کامیاب زندگی پا سکتا ہے۔ کسی حادثہ سے دوچار ہونے کے بعد اگر آدمی یہ کہہ سکے کہ میں نے ماضی کو کھویا ہے مگر میں نے مستقبل کو نہیں کھویا۔ تو گویا کہ اس نے جو چیز کھوئی تھی اس سے بھی زیادہ بڑی چیز اس نے دوبارہ پالئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page