Al-Risala · May 1983 · page 26

شعوری ایمان

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶

شعوری ایمان

قاضی مجتبی حسن زنجانی (پیدائش ۱۹۱۵) حکومتِ ہند میں جوائنٹ چیف کنٹرولر امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ تھے۔ ۴ فروری ۱۹۸۳ کی ملاقات میں انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بتایا۔ ۱۹۳۵ میں جب کہ الہ آباد میں وہ تعلیم حاصل کر رہے تھے اصغر گونڈوی بھی وہاں مقیم تھے ۔ اصغر صاحب اس وقت ہندوستانی اکیڈمی کے تماہی رسالہ" کے مدیر تھے۔ جناب زنجانی صاحب اور ان کے کچھ نوجوان ساتھی ایک روز اصغر گونڈوی سے ملنے کیلئے گئے۔ وہاں مجلس میں ایک اور صاحب موجود تھے جو ان طلبہ کے آزادانہ خیالات سے واقف تھے۔ انہوں نے اصغر گونڈوی سے کہا۔ "حضرت یہ لڑکے انگریزی پڑھ کر دہرے ہوگئے ہیں۔ "

اصغر گونڈوی یہ سن کر فوراً سنجیدہ ہو گئے ۔ "ان کو دہر یہ نہ کہو۔ " انہوں نے کہا۔ "یہ ابھی لا الہ کی منزل میں ہیں۔ اس کے بعد جب وہ الا اللہ کی منزل میں پہنچیں گے تو وہ تم سے اچھے مسلمان ہونگے۔ " اصغر گونڈوی کے اس جملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ایک واقعہ کے تاریک پہلو کو لینے کے بجائے اس کے روشن پہلو کو لیا۔ خدا اور مذہب کے بارے میں ایک آدمی کے تشکیکی خیالات کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ باقاعدہ طور پر خدا و مذہب کا منکر ہو۔ مگر اسی کے ساتھ یہاں دوسرا امکان بھی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی تلاش کے مرحلہ میں ہو۔ اصغر گونڈوی نے نوجوانوں کی دہریت کو انکار کے معنی میں لینے کے بجائے اس کو تلاش کے معنی میں لیا۔

اس کے اندر ایک اور حکمت بھی ہے وہ یہ کہ تلاش کے مرحلہ سے گزر کر جو شخص یافت" کے مرحلہ تک پہنچتا ہے اس کا ایمان بے حد پختہ ہوتا ہے۔ جو آدمی شعوری طور پر نہیں کا انکار کرے اور شعوری طور پر ہے" کو اختیار کرے اس کے ایمان میں جوش اور یقین اور زندگی ہوتی ہے۔ اس کا ایمان ان لوگوں سے بہت بلند ہوتا ہے جنہوں نے نہیں کا تجربہ نہیں کیا۔ جن کو نسلی اور روایتی طور پر ایک عقیدہ مل گیا اور وہ اس سے مانوس ہو کر اس سے وابستہ ہوگئے ۔

روایتی ایمان ایک آبائی تقلید ہوتا ہے۔ اور شعوری ایمان ایک ذاتی دریافت۔ اول الذکر ایمان آدمی کی زندگی کا بس ایک ضمیمہ ہوتا ہے۔ جبکہ ثانی الذکر ایمان اس کے وجود میں خون اور حرارت بن کر داخل ہو جاتا ہے۔ ایک اگر بے روح ایمان ہے تو دوسرا حقیقی معنوں میں زندہ ایمان ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page