Al-Risala · January 1983 · page 23

تلوار سے زیادہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن یونس ۱۰ یہ صورتِ حال بلاشبہ بے حد سخت ہے۔ اس کے بعد ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ مخالفین حق کے حوصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے کو کامیاب سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف داعی پر بھی یہ خیال گزرتا ہے کہ کیا خدا اس معاملہ میں غیر جانب دار ہے۔ کیا وہ مجھے حق و باطل کے اس معرکہ میں ڈال کر خود علیحوہ ہوگیا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا حق کا ساتھ نہ دے۔ مخالفین کا بے دلیل ہو جانا اور دلیل کی قوت کا تمام تر داعی کی طرف ہونا یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا داعی کے ساتھ ہے نہ کہ دوسرے گروہ کے ساتھ۔ کیونکہ دلیل موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ جس کے ساتھ دلیل ہے اس کے ساتھ گویا خدا ہے۔ مخالفین حق کو جارحیت کا موقع صرف اس آزادی کی وجہ سے مل رہا ہے جو امتحان کی خاطر انہیں دی گئی ہے۔ امتحانی دنیا کے ختم ہوتے ہی یہ صورتِ حال بدل جائے گی۔ اس وقت عزت و برتری اس کے لئے ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوا تھا۔ جو لوگ دلیل سے خالی تھے وہ وہاں کی دنیا میں رسوا اور ناکام ہو کر رہ جائیں گے۔ اللہ کے سچے داعیوں کا گروہ خدا کے دوستوں کا گروہ ہے۔ اللہ ان کو آخرت میں ایک ایسی اعلیٰ زندگی کی خوش خبری دیتا ہے جہاں نہ انھیں پچھلی زندگی کے لئے کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ اگلی زندگی کے لئے کوئی اندیشہ۔

اَلَا اِنَّ لِلَّهِ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ ؕ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ ؕ اِنْ يَّتَّبِعُونَ اِلَّا الظَّنَّ و ان ھم اِلَّا يَخْرُصُونَ ﴿۶۶﴾ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيْهِ و النھار مُبْصِرًا ؕ اِنَّ فِيْ ذَلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُوْنَ ﴿۶۷﴾ سنو، جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب اللہ ہی کے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سواشریکوں کو پکارتے ہیں وہ کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں، وہ صرف گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ محض اٹکل دوڑا رہے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ اور دن کو روشن بنایا۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں۔ ۶۶ - ۶۷ زمین و آسمان کے پیچھے کون ہے جو اس کو سنبھالے ہوئے ہے اور اس کو چلا رہا ہے۔ یہ سوال ہر زمانہ میں انسان کی تلاش کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ مگر اس سوال کا صحیح جواب پانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی ماوراے طبیعیات دنیا تک دیکھ سکے اور ماوراے طبیعیات تک دیکھنے والی آنکھ کسی کو حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دہ جواب جو وہ بطور خود قائم کرتا ہے وہ محض قیاس و گمان کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page