Al-Risala · May 1983 · page 144

منافق کے ساتھ برتاؤ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴۴

منافق کے ساتھ برتاؤ

امام شافعی نے اپنی کتاب الام میں ایک روایت ان الفاظ میں نقل کیا ہے : اخبرنا مالك عن ابن شہاب عن عطاء بن یزید اللیثی ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن عبید اللہ بن عدی بن الخیاران رجلار سار سے چپکے چپکے بات کی۔ ہم نے نہیں جانا کہ وہ چپکے النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم ندر ما ساتر حتی چپکے کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ جهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا هو علیہ وسلم با آواز بلند بولے تو ہم نے جانا کہ وہ يشاوره في قتل رجل من المنافقين فقال منافقین میں سے ایک شخص کو قتل کرنے کا مشورہ رسول الله صلى الله عليه وسلم اليس يشهد کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لا اله الا الله ۔ قال بلی ولا شهادة له اس کے جواب میں کہا ، کیا وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت فقال اليس يصلى قال بلی ولا صلاة له فقال نہیں دیتا ہے۔ آدمی نے کہا ہاں ، مگر اس کی رسول الله صلى الله عليه وسلم أولئك الذين شہادت شہادت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا نهى الله تعالى عنهم کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے۔ آدمی نے کہا ہاں ، مگر اس کی نماز نماز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف سے اللہ نے مجھ کو منع کر دیا ہے۔

بخاری و مسلم نے عبادہ بن الصامت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلایا پھر بیعت لی ۔ آپ نے ہم سے سمع و طاعت پر بیعت لی خواہ پسند ہو یا نا پسند ، مشکل ہو یا آسان۔ اور یہ کہ ہم اپنے اوپر ترجیح دئے جانے کو گوارا کریں اور اہلیت والے سے معاملہ میں نزاع نہ کریں الایہ کہ تم کھلا ہوا کفر دیکھو جس کے لئے تمہارے پاس خدا کی طرف سے دلیل ہو (بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا وعسرنا ويسرنا واثرة علينا وان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برھان)

روایات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ فلاں فلاں اشخاص اگر چہ ظاہری طور پر مسلمان بنے ہوتے ہیں مگر حقیقۃ وہ منافق ہیں۔ اس کے باوجود

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page