The Call for Islam in South and Southeast Asia
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱
سفر کریں تو آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ انگریزی میں بولیں گے۔ اس ملک میں انگریزی زبان اب بھی اونچی حیثیت کی نشانی بنی ہوئی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں نہیں بلکہ غیر ملک میں ہیں۔ اگرچہ اکثر انگریزی بولنے والے غلط انگریزی بولتے ہیں۔ مگر اپنی پوزیشن کو نمایاں کرنے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں کہ ملکی زبان جانتے ہوئے انگریزی زبان میں بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورت حال صرف اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب کہ ملکی زبان علمی اور ادبی اعتبار سے انگریزی زبان جیسا مقام حاصل کرلے۔ محض قومی اپیلوں سے شاید اس کا ختم ہونا ممکن نہیں۔
جنوری کی دوپہر کو ہمارا ہوائی جہاز مالدیپ کے اوپر اڑ رہا تھا۔ دو ہزار چھوٹے جزیروں کا یہ ملک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہے جس کے ہرے ہرے دانے ٹوٹ کر سمندر میں بکھر گئے ہوں ۔ ہوائی اڈہ خود بھی ایک چھوٹے جزیرہ پر ہے۔ یہاں صرف ہوائی اڈہ ہے۔ یہاں سے اسٹیمر پر ہم مالے نامی جزیرہ پر گئے ۔ جو مالدیپ کا دارالسلطنت ہے۔ مالے ایک میل لمبا ڈیڑھ میل چوڑا جزیرہ ہے۔ دو ہزار میں سے دوسو جزیرے آباد ہیں۔ کل آبادی تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔ یہاں کی آبادی میں صد فی صد مسلمان ہیں۔ یہاں کوئی بھی غیر مسلم شہری نہیں۔ مالے میں میرا قیام سوسن گی (کمرہ نمبر ۱۰) میں تھا۔
سیمنار کی کاروائی ۱۰۔ ۱۱۔ ۱۲ جنوری ۱۹۸۳ کو ہوئی ۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام اور مسلمانوں کے مسائل سے متعلق چار مقالے پیش ہوئے یہ مقالے مالدیپ کی وزارت تعلیم کی سیکریٹریٹ نے تیار کئے تھے۔ ہر مقالہ پہلے پڑھا جاتا اور اس کے بعد شرکاء اس پر اظہار خیال کرتے تھے۔
یہ اظہار عربی یا انگریزی زبان میں کیا گیا۔ میں نے ان مقالوں پر جو اظہار خیال کیا وہ انگریزی زبان میں تھا جو سیمنار کی فائنل رپورٹ میں شائع ہو چکا ہے۔
۱۱ جنوری کی شام کا کھانا دوسرے جزیرہ پر رکھا گیا ۔ وہاں ہم لوگ اسٹیمر پر گئے ۔ یہ جزیرہ صرف سیاحوں کے لئے ہے۔ یہاں سیاحوں کے نقطہ نظر سے عمارتیں اور ہوٹل تعمیر کئے گئے ہیں۔ رات کے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم سمندر کے بیچ ایک سبزہ زار تختہ پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیمنار میں چار مقالے پڑھے گئے اور اس کے بعد شرکاء نے ان پر اظہار خیال کیا۔